برلن/سڈنی: ایپل کے پہلے فولڈ ایبل اسمارٹ فون ’آئی فون ڈو‘ کی فروخت جمعہ کو شروع ہوگئی، جس کے ساتھ کمپنی کئی برس سے سام سنگ، ہواوے اور دیگر مینوفیکچررز کی موجودگی والے فولڈنگ فون بازار میں باضابطہ طور پر داخل ہوگئی ہے۔ ابتدائی طلب دستیاب سپلائی سے زیادہ رہی اور کئی مارکیٹوں میں پری آرڈر کی متوقع ترسیل جنوری کے آخر تک پہنچ گئی۔
آئی فون ڈو کا آغاز ایپل کے نئے چیف ایگزیکٹو جان ٹرنس کے لیے بھی ابتدائی بڑا امتحان سمجھا جا رہا ہے۔ سابق ہارڈویئر سربراہ ٹرنس نے ستمبر میں قیادت سنبھالنے کے تقریباً ایک ہفتے بعد فون متعارف کرایا تھا۔ فولڈ ایبل اسمارٹ فونز اب تک مجموعی موبائل مارکیٹ کا محدود حصہ ہیں، تاہم ایپل کی آمد سے اس زمرے میں صارفین کی دلچسپی اور مسابقت بڑھنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
پری آرڈر کھلنے کے چند منٹ بعد ہی کئی خریداروں کے لیے ترسیل کی تاریخیں جنوری کے آخر تک چلی گئیں۔ کمپنی نے صارفین کے ردعمل کو غیر معمولی قرار دیا اور زیادہ طلب کے باعث فی خریدار زیادہ سے زیادہ دو ہینڈ سیٹس کی حد مقرر کی۔ چین، فرانس، ہانگ کانگ، بھارت اور جاپان سمیت بعض مارکیٹوں میں یونٹس صرف آن لائن آرڈر کرنے والے صارفین کے لیے دستیاب رکھے گئے، جبکہ دیگر ممالک میں بھی واک اِن اسٹاک محدود رہا۔
آسٹریلیا میں فروخت شروع ہونے سے پہلے صارفین ایپل اسٹور کے باہر قطار میں نظر آئے۔ فون کی قیمت پریمیم سطح پر ہے؛ سڈنی میں 512 جی بی ماڈل کی قیمت 3,899 آسٹریلوی ڈالر بتائی گئی۔ ابتدائی جائزوں میں ڈیزائن، مضبوط ہِنج اور اسکرین کے نسبتاً کم نمایاں کریز کو سراہا گیا، تاہم ٹیلی فوٹو کیمرے کی عدم موجودگی، بعض تھرڈ پارٹی ایپس کی نئی اسکرین کے لیے نامکمل مطابقت اور فولڈ حالت میں روزمرہ کے مختصر کاموں کی سہولت پر تنقید بھی سامنے آئی ہے۔
مارکیٹ ریسرچ ادارے آئی ڈی سی کے ایک تخمینے کے مطابق ایپل 2026 میں فولڈ ایبل فونز کی مجموعی قدر کا 44 فیصد حصہ حاصل کر سکتا ہے جبکہ یونٹس کے لحاظ سے اس کا حصہ 31 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ ادارے نے 2027 میں ایپل کے اس زمرے میں قدر اور ترسیل دونوں اعتبار سے مارکیٹ لیڈر بننے کی پیش گوئی کی ہے۔ یہ پیش گوئیاں حتمی فروخت کے اعداد نہیں بلکہ مارکیٹ تخمینے ہیں، اور آئی فون ڈو کی طویل مدتی کامیابی سپلائی، قیمت اور صارفین کے عملی تجربے پر منحصر ہوگی۔

