اسلام آباد: پاکستان میں فائیو جی نیٹ ورک کے ابتدائی رول آؤٹ کے تحت 24 شہروں میں مجموعی طور پر 1,782 سائٹس نصب یا فعال کی جا چکی ہیں۔ بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق جاز 1,015 سائٹس کے ساتھ سب سے آگے ہے جبکہ زونگ کی 640 سائٹس شامل ہیں۔ باقی سائٹس دیگر آپریٹرز کے نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔

فائیو جی کی توسیع پاکستان کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں ایک اہم مرحلہ ہے کیونکہ نئی نسل کی موبائل ٹیکنالوجی زیادہ رفتار، کم تاخیر اور بیک وقت زیادہ ڈیوائسز کو جوڑنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔ اس سے عام صارفین کے علاوہ صنعت، مالیاتی خدمات، صحت، تعلیم اور انٹرنیٹ آف تھنگز پر مبنی کاروباری استعمال کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

سائٹس کی تعداد نیٹ ورک کی موجودگی کا اہم اشاریہ ہے، لیکن اس سے ہر علاقے میں یکساں کوریج یا رفتار کی ضمانت نہیں ملتی۔ صارف کا تجربہ دستیاب اسپیکٹرم، فون کی مطابقت، آبادی کی کثافت، بیک ہال صلاحیت اور مقام کے لحاظ سے مختلف ہو سکتا ہے۔ اسی طرح 24 شہروں میں موجودگی کا مطلب یہ نہیں کہ ان شہروں کے تمام حصوں میں فائیو جی سروس یکساں طور پر دستیاب ہے۔

پاکستان میں فائیو جی کے تجارتی پھیلاؤ کے ساتھ آپریٹرز کو نئے ریڈیو آلات، فائبر کنیکٹیویٹی اور توانائی کے نظام میں سرمایہ کاری کرنا پڑ رہی ہے۔ بلند کاروباری لاگت اور صارفین کی قوت خرید بھی نیٹ ورک کی توسیع کی رفتار پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اس کے باوجود ابتدائی سائٹ تعیناتی سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑے آپریٹرز نئی ٹیکنالوجی کے لیے انفراسٹرکچر بڑھا رہے ہیں۔

آئندہ مرحلے میں فائیو جی کی کامیابی کا جائزہ صرف سائٹس کی تعداد سے نہیں بلکہ حقیقی کوریج، اوسط رفتار، سروس کے نرخ، مطابقت رکھنے والے ہینڈ سیٹس کی دستیابی اور کاروباری استعمال کی بنیاد پر ہوگا۔ ریگولیٹری پالیسی اور اضافی اسپیکٹرم بھی ملک گیر توسیع کے لیے اہم عوامل رہیں گے۔