لندن: ایپل کو برطانیہ میں تقریباً 2 ارب پاؤنڈ، یعنی 2.7 ارب ڈالر، کے اجتماعی قانونی دعوے کا سامنا ہے جس میں کمپنی کی ایپ ٹریکنگ پالیسی پر مسابقتی اختیارات کے مبینہ غلط استعمال کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ مقدمہ لندن کے کمپٹیشن اپیل ٹریبونل میں ایپ ڈویلپرز کی نمائندگی کرتے ہوئے دائر کیا گیا۔

درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ ایپل نے اپنی App Tracking Transparency پالیسی کے ذریعے تیسرے فریق کی ایپس پر ایسی پابندیاں لگائیں جن سے ان کاروباروں کو نقصان ہوا جو اشتہارات اور صارف کے رویے سے متعلق ڈیٹا پر انحصار کرتے ہیں۔ دعوے میں کہا گیا ہے کہ آئی فون ایکو سسٹم میں ایپل کی گیٹ کیپر حیثیت کے باعث ان قواعد کے تجارتی اثرات وسیع رہے۔

ایپل نے 2021 میں یہ فیچر متعارف کرایا تھا اور کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد صارفین کو یہ اختیار دینا ہے کہ وہ فیصلہ کر سکیں آیا کوئی ایپ دوسری کمپنیوں کی ایپس اور ویب سائٹس پر ان کی سرگرمی کو ٹریک کر سکتی ہے یا نہیں۔ ایپل اپنی پالیسی کو صارف کی رازداری اور ڈیٹا پر کنٹرول سے جوڑتا ہے۔

مقدمے میں عائد الزامات ابھی عدالتی طور پر ثابت نہیں ہوئے۔ ٹریبونل کو یہ طے کرنا ہوگا کہ پالیسی نے مسابقتی قانون کی خلاف ورزی کی یا یہ رازداری کے جائز مقصد کے لیے متناسب اقدام تھا۔ اسی لیے 2 ارب پاؤنڈ کی رقم کو حتمی جرمانہ یا ثابت شدہ نقصان نہیں بلکہ دعوے کی مالیت کے طور پر سمجھنا ضروری ہے۔

یہ کیس بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی پرائیویسی پالیسیوں اور مسابقت کے درمیان بڑھتے تناؤ کی ایک نئی مثال ہے۔ ریگولیٹرز کو ایک طرف صارفین کے ڈیٹا تحفظ کو مضبوط بنانا ہے اور دوسری طرف یہ دیکھنا ہے کہ پلیٹ فارم اپنے قواعد کے ذریعے حریفوں یا کاروباری شراکت داروں کو غیر منصفانہ نقصان نہ پہنچائیں۔ مقدمے کی آئندہ سماعتیں اس توازن کے لیے اہم قانونی نظیر بن سکتی ہیں۔