قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و انسداد منشیات کو بتایا گیا ہے کہ غیر قانونی طور پر جاری ہونے والی موبائل سمز، چوری شدہ فنگرپرنٹ ڈیٹا اور کرائے پر لیے گئے بینک اکاؤنٹس آن لائن مالی فراڈ میں استعمال کیے جا رہے ہیں۔ ڈان کے مطابق ریگولیٹرز اور تحقیقاتی اداروں نے کمیٹی کے سامنے تسلیم کیا کہ بڑے پیمانے پر سمز بلاک کرنے اور کارروائیوں کے باوجود نظام میں موجود خامیوں سے جعل ساز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ گزشتہ ڈھائی برس میں 1 کروڑ 82 لاکھ غیر قانونی سمز بلاک کی گئی ہیں۔ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے ڈائریکٹر عرفان اللہ خان نے ملتان میں ایک حالیہ کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 195 فعال سمز اور 81 اے ٹی ایم کارڈز قبضے میں لیے گئے جو مبینہ طور پر فراڈ میں استعمال ہو رہے تھے۔ یہ معلومات حکام کی بریفنگ پر مبنی ہیں اور ہر ضبط شدہ سم یا کارڈ سے متعلق انفرادی مقدمات کے نتائج الگ قانونی عمل کے تابع ہوں گے۔
پی ٹی اے چیئرمین میجر جنرل ریٹائرڈ حفیظ الرحمٰن نے کمیٹی کو بتایا کہ سم اجرا کے لیے بنایا گیا بائیومیٹرک نظام بائی پاس کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق فراڈ کرنے والے فنگرپرنٹ ڈیٹا چرانے کے طریقے استعمال کر رہے ہیں۔ پی ٹی اے اور این سی سی آئی اے کی مشترکہ کارروائیوں میں 110 مقامات پر چھاپے، 29 ہزار غیر قانونی سمز کی بندش اور 171 مشتبہ افراد کی گرفتاری کی اطلاع دی گئی، جبکہ تقریباً چھ لاکھ افراد سے متعلق ڈیٹا بھی برآمد ہونے کا بتایا گیا۔
وزیر مملکت طلال چوہدری نے موجودہ بائیومیٹرک تصدیق کو ناکافی قرار دیتے ہوئے چہرے اور آنکھ کی پتلی کی شناخت جیسے اضافی طریقوں کی تجویز دی۔ کمیٹی میں یہ مسئلہ بھی اٹھایا گیا کہ بعض مجرم مالی لین دین کے لیے دوسرے افراد کے بینک اکاؤنٹس کرائے پر حاصل کرتے ہیں، جنہیں عموماً منی مول یا رینٹڈ اکاؤنٹس کہا جاتا ہے۔
کمیٹی کے چیئرمین راجا خرم شہزاد نواز نے سیکریٹری داخلہ کو اسٹیٹ بینک، پی ٹی اے، این سی سی آئی اے اور ٹیلی کام کمپنیوں سمیت متعلقہ فریقوں کا اجلاس بلا کر نیا لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت کی۔ زیر غور تجاویز میں سم اجرا کو نادرا کے پاک آئی ڈی نظام سے جوڑنا، ایک سم کو ایک مخصوص آئی ایم ای آئی سے منسلک کرنا اور ایک شناختی کارڈ پر اضافی سم جاری ہونے کی صورت میں شہری کو خودکار اطلاع دینا شامل ہیں۔ ان تجاویز پر حتمی پالیسی یا قانون بننا ابھی باقی ہے۔




