اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے انکم ٹیکس اسیسمنٹ کے لیے کیسوں کے انتخاب میں Compliance Risk Management، یا سی آر ایم، نظام کا استعمال لازمی کر دیا ہے۔ ایف بی آر کے انکم ٹیکس سرکلر نمبر 1 مجریہ 2026 کے مطابق یکم ستمبر سے ان لینڈ ریونیو کا کوئی افسر نئی اسیسمنٹ، ترمیمی اسیسمنٹ یا ری اسیسمنٹ اس وقت تک شروع نہیں کر سکتا جب تک متعلقہ کیس سی آر ایم نظام سے منتخب ہو کر اسی افسر کو باقاعدہ تفویض نہ کیا گیا ہو۔
نئی ہدایت انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعات 121، 122، 122A اور 122C سمیت متعلقہ اسیسمنٹ کارروائیوں پر لاگو ہوگی۔ ایف بی آر نے کہا ہے کہ اس نظام کا مقصد کیسوں کے انتخاب میں شفافیت، یکسانیت اور معروضیت لانا، فیلڈ افسران کی غیرمنظم صوابدید محدود کرنا اور ٹیکس انتظامیہ کو زیادہ ڈیجیٹل و خودکار بنانا ہے۔
سی آر ایم سے انتخاب کا مطلب یہ نہیں کہ متعلقہ ٹیکس گزار نے پہلے ہی ٹیکس چوری کی ہے یا اس پر کوئی مخصوص رقم حتمی طور پر واجب ہو گئی ہے۔ نظام خطرے کے اشاریوں کی بنیاد پر جانچ کے لیے کیس منتخب اور تفویض کرتا ہے؛ اس کے بعد نوٹس، جواب، ریکارڈ، سماعت، اسیسمنٹ آرڈر اور قانونی اپیل کے مراحل متعلقہ قانون کے مطابق الگ مکمل ہوتے ہیں۔
سرکلر کے مطابق 31 اگست 2026 تک شروع ہو چکی اسیسمنٹ کارروائیاں پرانے انتظام کے تحت مکمل کی جا سکتی ہیں۔ تاہم ایسے جاری کیس میں بھی یکم ستمبر یا اس کے بعد کوئی نیا ترمیمی اقدام، ری اسیسمنٹ یا تازہ شوکاز نوٹس جاری کرنا ہو تو سی آر ایم سے انتخاب کی شرط پوری کرنا ضروری ہوگی۔ یوں پرانے کیس کی موجودگی افسر کو بعد کی ہر نئی کارروائی کے لیے خودکار استثنا نہیں دیتی۔
ایف بی آر نے متنبہ کیا ہے کہ سی آر ایم کے بغیر شروع کی گئی نئی کارروائی غیرمجاز سمجھی جا سکتی ہے اور مجاز اتھارٹی اسے ابتدا ہی سے کالعدم قرار دے سکتی ہے۔ اس عبارت کا قانونی اثر ہر مقدمے کے حقائق اور مجاز فورم کے فیصلے سے طے ہوگا؛ سرکلر پڑھتے ہی ہر خلاف ورزی والی کارروائی خود بخود عدالتی حکم کے بغیر ختم نہیں ہو جاتی۔
نئے طریقۂ کار سے استثنا صرف غیرمعمولی صورت میں دیا جا سکے گا۔ متعلقہ افسر یا فیلڈ فارمیشن کو مکمل جواز کے ساتھ تحریری درخواست ممبر ان لینڈ ریونیو آپریشنز کے پاس جمع کرانا ہوگی، اور استثنا اسی وقت مؤثر ہوگا جب ممبر یا اس کے باقاعدہ مجاز افسر کی واضح تحریری منظوری ملے۔ زبانی اجازت یا مقامی سطح کی عمومی ہدایت کافی نہیں ہوگی۔
تمام چیف کمشنرز ان لینڈ ریونیو کو اپنے دائرۂ اختیار میں سرکلر پر سخت عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل کمپلائنس رسک مینجمنٹ کو نظام مسلسل فعال رکھنے، فیلڈ فارمیشنوں کو تکنیکی مدد، تربیت اور رہنمائی دینے کی ذمہ داری دی گئی۔ کسی تکنیکی خرابی یا سسٹم بندش سے عمل متاثر ہو تو اسے 24 گھنٹے میں ممبر آئی آر آپریشنز کو رپورٹ کرنا ہوگا۔
سرکلر کو ان سابقہ ہدایات، ایس او پیز یا انتظامی احکامات پر فوقیت دی گئی ہے جو لازمی سی آر ایم انتخاب سے متصادم ہوں۔ ایف بی آر نے یہ ہدایت انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 214 کے تحت جاری کی ہے۔ آئندہ اس نظام کی حقیقی افادیت کا اندازہ منتخب کیسوں کے معیار، الگورتھم یا خطرے کے اصولوں کی غیرجانبداری، افسران کی تعمیل، ٹیکس گزاروں کو مناسب سماعت اور اپیلوں میں سامنے آنے والے عدالتی نتائج سے ہوگا۔




