اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و انسدادِ منشیات کو بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ڈھائی برس میں تقریباً ایک کروڑ 82 لاکھ غیر قانونی یا ضابطہ خلاف سمیں بلاک کیے جانے کے باوجود جعلی بینکاری پیغامات، فراڈ کالز اور آن لائن مالی جرائم میں سموں کا غلط استعمال جاری ہے۔ یہ بریفنگ 3 ستمبر 2026 کو کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی، بینکاری نمائندوں اور دیگر اداروں نے دی۔

اے پی پی کے مطابق پی ٹی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ ضابطہ خلاف سموں کے خلاف کارروائی کے ساتھ موبائل آپریٹرز پر جرمانے بھی عائد کیے گئے۔ ڈان کی تفصیلی رپورٹ کے مطابق پی ٹی اے کے چیئرمین میجر جنرل ریٹائرڈ حفیظ الرحمٰن نے تسلیم کیا کہ سم کے اجرا کے لیے بنایا گیا موجودہ بائیومیٹرک نظام دھوکا دہی سے بائی پاس کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجرم چرائے گئے فنگر پرنٹ ڈیٹا کو استعمال کرتے ہیں؛ مختلف عوامی مراکز سے ڈیٹا چوری ہونے سے متعلق بات بریفنگ کا دعویٰ تھی، کوئی مکمل تفتیشی نتیجہ نہیں۔

این سی سی آئی اے کے ڈائریکٹر عرفان اللہ خان نے ملتان میں حالیہ چھاپے کی مثال دیتے ہوئے کمیٹی کو بتایا کہ 195 فعال سمیں اور 81 اے ٹی ایم کارڈز قبضے میں لیے گئے، جو مبینہ طور پر فراڈ میں استعمال ہو رہے تھے۔ پی ٹی اے کے مطابق این سی سی آئی اے کے ساتھ مشترکہ کارروائیوں میں 110 مراکز پر چھاپے مارے گئے، 29 ہزار غیر قانونی سمیں بلاک کی گئیں، 171 مشتبہ افراد گرفتار ہوئے اور تقریباً 6 لاکھ افراد سے متعلق ڈیٹا برآمد کیا گیا۔ یہ اعداد متعلقہ اداروں کی بریفنگ پر مبنی ہیں۔

اجلاس میں یہ نکتہ بھی سامنے آیا کہ بعض جرائم پیشہ گروہ بینک اکاؤنٹس کرائے پر لے کر یا ’میول اکاؤنٹس‘ کے ذریعے فراڈ سے حاصل رقم منتقل کرتے ہیں۔ کمیٹی نے اسٹیٹ بینک، پی ٹی اے، این سی سی آئی اے، ٹیلی کام کمپنیوں اور وزارتِ داخلہ کو مشترکہ منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت کی تاکہ مشتبہ سموں کی فراہمی، غیر مجاز رقوم نکلوانے اور فراڈ کی رقم فوری منجمد کرنے میں موجود رکاوٹیں دور کی جا سکیں۔

وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے موجودہ فنگر پرنٹ تصدیق کو ناکافی قرار دیتے ہوئے چہرے اور آنکھ کی پتلی، یعنی آئرس، سے شناخت کی جانب جانے کی تجویز دی۔ ایک رکن نے سفارش کی کہ کسی شہری کے شناختی کارڈ پر ایک سے زیادہ نئی سم جاری ہو تو اسے فوری خودکار پیغام بھیجا جائے۔ پی ٹی اے سربراہ نے سم اجرا کو نادرا کے پاک آئی ڈی نظام سے منسلک کرنے جبکہ اسٹیٹ بینک کے ایک نمائندے نے ہر سم کو ایک ہی آئی ایم ای آئی نمبر تک محدود کرنے کی تجویز پیش کی۔ یہ تجاویز ہیں، نافذ شدہ حتمی فیصلے نہیں۔

کمیٹی نے قانون سازی، ریگولیشن، تکنیکی تحفظ اور عوامی آگاہی کے لیے قابلِ عمل اقدامات مرتب کرنے کو کہا۔ غیر ملکی سموں کی غیر مجاز فروخت اور سوشل میڈیا پر ان کی تشہیر کی نگرانی بھی ہدایات میں شامل تھی۔ اجلاس کی صدارت راجہ خرم شہزاد نواز نے کی، جبکہ داخلہ، قانون، پی ٹی اے، این سی سی آئی اے، ایف آئی اے، بینکوں اور موبائل آپریٹرز کے حکام شریک ہوئے۔

معاملے کی اہمیت صرف سم کارڈ تک محدود نہیں، کیونکہ بریفنگ نے شناختی ڈیٹا، موبائل نمبر اور بینک اکاؤنٹ کے باہمی استعمال میں موجود حفاظتی خلا کی نشاندہی کی ہے۔ کمیٹی کی ہدایات کے بعد اصل پیش رفت کا اندازہ مشترکہ رپورٹ، نئی تصدیقی ٹیکنالوجی کے قانونی اور رازداری کے ضوابط، اور فراڈ شکایات و رقوم کی بازیابی کے قابلِ پیمائش نتائج سے ہو گا۔