چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جمعہ کو پشاور میں کور ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا جہاں انہیں خیبر پختونخوا میں انسداد دہشت گردی کی جاری کارروائیوں، سرحدی انتظام اور تعینات دستوں کی آپریشنل تیاری کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے سکیورٹی فورسز کی کوششوں کو سراہا اور شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ان تنظیموں کے خلاف مہم جاری رکھنے کی بات کی جنہیں پاکستانی حکام بھارت کی سرپرستی یافتہ قرار دیتے ہیں۔ فوجی بیان میں کسی مخصوص گروہ کا نام نہیں بتایا گیا اور نہ ہی کسی نئی فوجی کارروائی کا اعلان کیا گیا۔ پاکستان طویل عرصے سے الزام عائد کرتا آیا ہے کہ بعض شدت پسند عناصر کو بھارت کی حمایت حاصل ہے، تاہم بھارت ایسے الزامات کی تردید کرتا ہے۔ اس لیے یہ دعویٰ پاکستانی حکام کا موقف ہے، کوئی غیر جانب دار طور پر ثابت شدہ نتیجہ نہیں۔

یہ دورہ خیبر پختونخوا کے ضلع کرک میں ایک روز قبل ہونے والی مسلح جھڑپ کے بعد ہوا، جس میں پولیس کے مطابق چار اہلکار، جن میں ایک سینئر انسداد دہشت گردی افسر بھی شامل تھا، ہلاک ہوئے جبکہ دو مشتبہ شدت پسند مارے گئے۔ صوبے میں حالیہ مہینوں کے دوران عسکریت پسند حملوں اور سکیورٹی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث وفاقی حکومت نے رواں ماہ صوبے میں ہنگامی انتظامات اور گورنر راج نافذ کیا تھا۔

وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ سابق صوبائی انتظامیہ شدت پسندی پر قابو پانے اور انسداد دہشت گردی اقدامات میں مطلوبہ تعاون فراہم کرنے میں ناکام رہی، جبکہ پاکستان تحریک انصاف اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے اپنی حکومت کے خاتمے کو سیاسی اقدام قرار دیتی ہے۔ ہنگامی انتظامات کے تحت صوبائی انتظامی اختیارات گورنر فیصل کریم کنڈی کو منتقل کیے گئے ہیں۔

آرمی چیف کا دورہ ایک روز قبل وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پشاور میں ہونے والے سکیورٹی اجلاس کے بعد سامنے آیا۔ موجودہ سرکاری بیانات میں توجہ جاری انسداد دہشت گردی کارروائیوں، سرحدی نگرانی اور فورسز کی تیاری پر ہے۔ اس دورے کے نتیجے میں کسی نئے آپریشن، اضافی دستوں کی تعیناتی یا الگ سکیورٹی پالیسی کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا، اس لیے خبر کا بنیادی واقعہ اعلیٰ فوجی سطح پر موجودہ سکیورٹی اقدامات کا جائزہ اور جاری حکمت عملی کے تسلسل کا اظہار ہے۔