کوئٹہ/اسلام آباد: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ بلوچستان کے ضلع گوادر میں گوادر شہر اور گبد بارڈر کراسنگ کے عمومی علاقوں میں دہشت گردی کی کوششوں کے بعد سکیورٹی فورسز نے کلیئرنس آپریشن کیے، جن کے دوران ایک خاتون سمیت 10 دہشت گرد مارے گئے۔ فوجی بیان کے مطابق یہ واقعات 22 اکتوبر 2026 کو پیش آئے اور مختلف مقامات پر سکیورٹی فورسز اور حملہ آوروں کے درمیان مقابلے ہوئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق حملوں کے دوران ایک شہری جاں بحق ہوا اور چند گاڑیوں کو نقصان پہنچا، تاہم آپریشنز میں سکیورٹی فورسز کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ بیان میں کہا گیا کہ کارروائیوں کے بعد علاقے میں ریاستی عمل داری بحال کر دی گئی۔ سرکاری بیان نے حملہ آوروں کو بھارت کی سرپرستی یافتہ قرار دیا، تاہم یہ الزام پاکستانی فوج کا مؤقف ہے اور دستیاب رپورٹس میں بھارت کی جانب سے اس مخصوص الزام پر فوری ردعمل شامل نہیں تھا۔
فوجی بیان میں ایک بلوچ خاتون کے حملے میں استعمال ہونے کو بھی نمایاں کیا گیا اور کہا گیا کہ اسے اس کارروائی میں شامل کرنا بلوچ خواتین کے استحصال کے مترادف ہے۔ آئی ایس پی آر نے اس پہلو کو شدت پسند گروہوں کی پروپیگنڈا حکمت عملی سے جوڑا۔ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی، اس لیے اسے سرکاری مؤقف کے طور پر ہی دیکھا جا رہا ہے۔
آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ قومی ایکشن پلان کی وفاقی ایپکس کمیٹی سے منظور شدہ عزمِ استحکام کے تحت انسدادِ دہشت گردی کی مہم جاری رہے گی اور سکیورٹی فورسز و قانون نافذ کرنے والے ادارے بیرونی معاونت یافتہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھیں گے۔
ایکسپریس ٹریبیون، ڈان، بزنس ریکارڈر، جیو نیوز اور ریڈیو پاکستان نے آئی ایس پی آر کے بیان کی بنیاد پر واقعے کی رپورٹنگ کی۔ مختلف رپورٹس میں بنیادی اعداد و شمار یکساں ہیں: 10 حملہ آور ہلاک، ایک شہری جاں بحق اور چند گاڑیوں کو نقصان۔ واقعے کی حساس نوعیت کے باعث ہلاکتوں اور حملہ آوروں کی شناخت سے متعلق تفصیلات بنیادی طور پر سرکاری بیان پر منحصر ہیں۔
