خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبائی حکومت نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس کے تحت حفاظتی حراست کے وسیع اختیارات تفویض کر دیے ہیں۔ عرب نیوز پاکستان کے مطابق صوبائی محکمہ داخلہ و قبائلی امور کے نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ڈپٹی کمشنرز سیکشن 3 کے تحت کسی ایسے شخص کو، جسے امن عامہ کے لیے خطرہ سمجھا جائے، چھ ماہ تک حراست میں رکھنے کا حکم دے سکتے ہیں۔
نوٹیفکیشن کے مطابق یہ اختیار فوری طور پر نافذ ہوگا اور اگلے احکامات تک برقرار رہے گا۔ مینٹیننس آف پبلک آرڈر کے تحت حفاظتی حراست فوجداری مقدمے میں سزا کے مترادف نہیں ہوتی؛ اس کا مقصد انتظامیہ کے مطابق ممکنہ امن و امان کے خطرے کو روکنا ہوتا ہے۔ کسی شخص کی حراست بذات خود جرم ثابت ہونے یا عدالتی سزا کا اعلان نہیں ہے، اور ایسے انتظامی احکامات قانونی و عدالتی جانچ کے تابع ہو سکتے ہیں۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خیبر پختونخوا میں سکیورٹی کی صورتحال پر وفاقی اور صوبائی سطح پر غیر معمولی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ صدر آصف علی زرداری نے 15 اکتوبر کو وزیراعظم شہباز شریف کی ایڈوائس پر صوبے میں گورنر راج نافذ کیا تھا۔ وفاقی حکومت نے اس اقدام کو شدت پسندی میں اضافے اور صوبائی انتظامیہ کی مبینہ ناکامی سے جوڑا، جبکہ پاکستان تحریک انصاف نے اسے سیاسی بنیادوں پر اپنی صوبائی حکومت ختم کرنے کی کارروائی قرار دیا ہے۔
گورنر فیصل کریم کنڈی کو گورنر راج کے دوران صوبائی انتظامی اختیارات حاصل ہیں۔ حالیہ دنوں میں صوبے میں پولیس اور سکیورٹی فورسز پر حملوں کے بعد انسداد دہشت گردی اقدامات اور ضلعی انتظامیہ کے کردار پر توجہ بڑھی ہے۔ کرک میں ایک جھڑپ میں چار پولیس اہلکاروں کی ہلاکت اور دیگر واقعات نے امن و امان کے انتظام کو مزید نمایاں کیا ہے۔
ڈپٹی کمشنرز کو دیے گئے اختیارات کا عملی استعمال انفرادی حراستی احکامات کی صورت میں ہوگا، اس لیے ہر ممکن کیس کی قانونی حیثیت اور وجوہات الگ دیکھی جائیں گی۔ موجودہ اطلاع اختیارات کی تفویض سے متعلق ہے؛ اس نوٹیفکیشن کے تحت کسی مخصوص شخص کی چھ ماہ کی حراست کی تصدیق اس خبر کا حصہ نہیں۔ انتظامیہ کے لیے یہ اقدام امن عامہ برقرار رکھنے کا ایک قانونی ذریعہ ہے، جبکہ اس نوعیت کے اختیارات شہری آزادیوں اور قانونی نگرانی کے حوالے سے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔
