اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹیشن اتھارٹی کے ساتھ کارروائی میں مبینہ طور پر غیر قانونی تجارتی گردہ پیوندکاری میں ملوث ایک منظم نیٹ ورک کے پانچ افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ایف آئی اے کے مطابق کارروائی پی ڈبلیو ڈی سوسائٹی میں کی گئی، جہاں حکام نے ایک ایسی پیوندکاری کا سراغ لگانے کا دعویٰ کیا جو متعلقہ قانون کی خلاف ورزی میں کی گئی تھی۔
ایف آئی اے کی جاری کردہ معلومات کے مطابق تین مشتبہ افراد موقع پر گرفتار ہوئے جبکہ دو کو بعد میں حراست میں لیا گیا۔ عدالت نے ملزمان کا سات روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا۔ مقدمہ ٹرانسپلانٹیشن آف ہیومن آرگنز اینڈ ٹشوز ایکٹ 2010 کی دفعات 9، 10 اور 11(a)(ii) کے ساتھ پاکستان پینل کوڈ کی متعلقہ دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔ یہ تمام تفصیلات تحقیقاتی ادارے کے الزامات اور ابتدائی تفتیش پر مبنی ہیں؛ ملزمان کے خلاف حتمی جرم ثابت ہونا عدالتی کارروائی سے مشروط ہے۔
تحقیقات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گردہ حاصل کرنے والے شخص سے پیوندکاری کے لیے 30 لاکھ روپے نقد وصول کیے گئے اور ایجنٹوں نے عطیہ دہندہ کا انتظام کیا۔ ایف آئی اے کے مطابق عطیہ دہندہ کے لیے چار لاکھ روپے طے کیے گئے تھے، جن میں سے کچھ رقم ایجنٹوں کے کمیشن کے طور پر رکھی جانی تھی۔ ادارے نے مزید الزام لگایا کہ رہائشی گھروں میں پیوندکاریاں کی جاتی تھیں اور مطلوبہ طبی و قانونی منظوری کے عمل کو جعلی ریفرل خطوط اور نمونوں کی غلط شناخت کے ذریعے بائی پاس کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔
ایف آئی اے کے مطابق نیٹ ورک میں ایجنٹوں کے علاوہ ڈاکٹر، نرس، بے ہوشی فراہم کرنے والا شخص، ادویات فراہم کرنے والے اور لیبارٹری و ڈائلیسس سہولت سے منسلک افراد شامل ہونے کا شبہ ہے۔ تحقیقات میں پی ڈبلیو ڈی سوسائٹی، بحریہ فیز فور اور پشاور میں نجی مقامات پر سرگرمیوں کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔ حکام نے ایک کروڑ روپے نقد اور تین گاڑیاں ضبط کرنے، جبکہ اسلام آباد میں مجموعی طور پر 8 کروڑ 75 لاکھ روپے مالیت کی دو جائیدادوں کی منتقلی منجمد کرنے کی اطلاع دی ہے۔
ہوٹا، اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی ٹیموں نے مبینہ غیر قانونی سیٹ اپ کا معائنہ کیا ہے اور الگ رپورٹس تیار کی جا رہی ہیں۔ ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ دیگر مشتبہ افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری ہیں اور بعض ملزمان کے خلاف ممکنہ منی لانڈرنگ کارروائی بھی زیر غور ہے۔ کیس ابھی تفتیشی مرحلے میں ہے، اس لیے حکام کے تمام الزامات کو عدالت میں ثبوت کے ذریعے ثابت کیا جانا باقی ہے۔
