پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ 27 ستمبر کے مجوزہ لانگ مارچ میں دیگر سیاسی جماعتیں بھی شریک ہوں گی۔ ایکسپریس اردو کی 22 اگست کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے صوابی کے بام خیل میں ایک کمیونٹی سینٹر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ ایکسپریس ٹریبیون اور ڈان کی سابقہ رپورٹنگ بھی اس امر کی تصدیق کرتی ہے کہ تحریک انصاف اور اتحادی جماعتیں 27 ستمبر کے مارچ کے لیے رابطے اور مشاورت کر رہی ہیں۔
اسد قیصر نے اپنے خطاب میں خیبرپختونخوا کی امن و امان کی صورتحال کو بڑا مسئلہ قرار دیا اور وفاقی پالیسیوں پر تنقید کی۔ یہ سیاسی رہنما کا موقف ہے؛ متعلقہ ذمہ داری یا کسی پالیسی کے براہِ راست اثر کے بارے میں اس تقریر میں پیش کیا گیا دعویٰ آزاد تحقیق یا عدالتی نتیجہ نہیں۔ انہوں نے بلوچستان اور آزاد کشمیر کی صورتحال کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ سیاسی مسائل کے حل کے لیے آئینی اور پارلیمانی راستہ اختیار ہونا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ تحریک کا مقصد آزاد عدلیہ، مضبوط پارلیمان، مہنگائی میں کمی اور خودمختار پاکستان کے مطالبات کو اجاگر کرنا ہے۔ مارچ کی حتمی روٹ، انتظامی اجازت، شرکا کی متوقع تعداد اور پروگرام کے مرحلہ وار شیڈول کی مکمل تفصیل زیرِ جائزہ رپورٹ میں موجود نہیں۔ اس لیے شرکت کے دعوے کو سیاسی اعلان سمجھا جا رہا ہے، کسی جماعت کی باضابطہ اور قطعی حاضری کی ضمانت نہیں۔
ایک روز پہلے کی ایکسپریس ٹریبیون رپورٹ میں اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس کے بعد 27 ستمبر کے لانگ مارچ کی توثیق اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کو دعوت دینے کا ذکر آیا تھا۔ ڈان نے بھی خیبرپختونخوا حکومت اور تحریک انصاف کے رہنماؤں کے حوالے سے تاریخ برقرار رہنے اور اتحادیوں سے رابطے کی خبر دی۔ تازہ بیان اسی جاری سیاسی تیاری کا اگلا مرحلہ ہے جس میں اسد قیصر نے مزید جماعتوں کی شرکت کی توقع ظاہر کی ہے۔
سیاسی مارچ کے اعلان اور عملی انعقاد کے درمیان مذاکرات، انتظامی فیصلوں اور امن و امان کے انتظامات جیسے عوامل اہم ہوتے ہیں۔ وفاقی یا مقامی انتظامیہ کی جانب سے کسی نئی پابندی، اجازت یا متبادل انتظام کا اعلان اس رپورٹ کے وقت زیرِ جائزہ ذرائع میں شامل نہیں تھا۔ اسی طرح کسی مخصوص جماعت کی طرف سے تازہ تحریری شرکت کی تصدیق بھی یہاں دعویٰ نہیں کی جا رہی۔
اردو ہیڈلائنز مارچ سے متعلق بیانات کو واضح نسبت کے ساتھ شائع کر رہا ہے تاکہ سیاسی موقف اور تصدیق شدہ انتظامی حقیقت الگ رہیں۔ آئندہ اگر روٹ، وقت، اجازت، مذاکرات یا شریک جماعتوں کی باضابطہ فہرست سامنے آتی ہے تو اسے اسی واقعے کی مادی اپ ڈیٹ کے طور پر شامل کیا جائے گا، نئی متوازی خبر کے طور پر نہیں۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




