اسلام آباد کے چیف کمشنر نے سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کے 18 اگست کے حکم کے خلاف نظرثانی درخواست جلد سماعت کے لیے مقرر کی جائے۔ ڈان اور جیو نیوز کی 22 اگست کی رپورٹس کے مطابق نئی درخواست کا مقصد زیر التوا نظرثانی معاملے کی فوری تاریخ حاصل کرنا ہے۔ عدالت نے ابھی اس درخواست پر سماعت کی تاریخ یا حتمی فیصلہ جاری نہیں کیا، اس لیے اسے حکومتی مؤقف اور قانونی استدعا کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔

ڈان کے مطابق سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے 18 اگست کو عمران خان کی صحت اور اہل خانہ سے ملاقاتوں سے متعلق درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے انہیں دو روز میں نجی اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت دی تھی۔ بینچ کی سربراہی جسٹس شاہد وحید نے کی، جبکہ جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔ حکم میں طبی جانچ اور علاج کے انتظامات کا معاملہ زیر غور آیا تھا، جس کے بعد حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان عدالتی حکم کی تعمیل پر اختلاف پیدا ہوا۔

چیف کمشنر کی نظرثانی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ نجی اسپتال منتقلی کی ہدایت سے جیل انتظامیہ اور حکومت کے آئینی و قانونی اختیارات متاثر ہوئے اور اسی نوعیت کے دوسرے قیدی بھی مساوی سہولت کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔ درخواست میں آئین کے آرٹیکل 25، پاکستان پریزن رولز 1978 اور فوجداری قانون کی مختلف دفعات کا حوالہ دیتے ہوئے حکم کو امتیازی قرار دینے کی دلیل دی گئی۔ یہ تمام نکات درخواست گزار کے قانونی دلائل ہیں؛ سپریم کورٹ نے ان کی صحت یا درستگی کے بارے میں ابھی کوئی تازہ فیصلہ نہیں دیا۔

رپورٹ کے مطابق رجسٹرار آفس نے حکومت کی پہلے دائر کردہ نظرثانی درخواست دستاویزی اعتراضات کے ساتھ واپس کردی تھی۔ اعتراضات میں حلف نامے اور حقائق کی ترتیب اور ایک پیپر بک کے درست نہ ہونے کا مسئلہ شامل تھا، جبکہ درخواست گزار کو خامیاں دور کرکے دو ہفتوں میں دوبارہ جمع کرانے کی اجازت دی گئی۔ چیف کمشنر نے بعد میں درخواست دوبارہ دائر کی اور اب جلد سماعت کی استدعا کی ہے۔

یہ پیش رفت پہلے سے جاری طبی منتقلی تنازع کا قانونی مرحلہ ہے، نہ کہ عمران خان کی صحت کے بارے میں کوئی نئی طبی تشخیص۔ حکومت، پی ٹی آئی اور عمران خان کے اہل خانہ کے بیانات الگ الگ سیاسی و قانونی مؤقف رکھتے ہیں۔ حتمی طور پر یہ سپریم کورٹ طے کرے گی کہ نظرثانی درخواست قابل سماعت ہے یا نہیں، اصل حکم میں تبدیلی کی ضرورت ہے یا نہیں اور سماعت کب ہوگی۔ موجودہ مصدقہ خبر صرف یہ ہے کہ چیف کمشنر نے جلد سماعت مانگی ہے؛ عدالت کی منظوری یا حکم واپس لینے کا کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک