سینیٹ کا اجلاس جمعے کو چند منٹ کی کارروائی کے بعد کورم پورا نہ ہونے کے باعث پیر کی شام تک ملتوی کردیا گیا، جب چیئر نے پی ٹی آئی کی سینیٹر مشال خان یوسفزئی کو عمران خان کی اسپتال منتقلی سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم پر مبینہ عدم تعمیل کا معاملہ سوالیہ وقفے میں اٹھانے کی اجازت نہ دی۔ ڈان کی 22 اگست کی رپورٹ کے مطابق اجلاس کی صدارت سینیٹر منظور کاکڑ کررہے تھے۔
مشال یوسفزئی نے کہا کہ عدالتی ہدایات کے باوجود عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل نہیں کیا گیا اور انہیں پمز لے جانے کے بعد مختصر وقت میں واپس جیل پہنچایا گیا۔ یہ پی ٹی آئی سینیٹر کا الزام اور قانونی مؤقف ہے؛ حکومت اس تشریح سے اختلاف کرتی ہے اور اس معاملے پر عدالتی کارروائی جاری ہے۔ چیئر نے انہیں کہا کہ فی الحال سوالیہ وقفے کے مطابق بات کی جائے اور اس موضوع پر مزید گفتگو کی اجازت نہیں دی۔
اس کے بعد سینیٹر نے ایوان میں کورم کی نشاندہی کی۔ گھنٹیاں بجانے کے باوجود مطلوبہ تعداد پوری نہ ہوسکی اور کارروائی ملتوی کرنا پڑی۔ نتیجتاً ایجنڈے میں شامل دیگر امور بھی زیر بحث نہ آسکے۔ ان میں پاکستان ایران گیس پائپ لائن کی تکمیل نہ ہونے سے گیس کی قلت سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس اور ضروری ادویات کی قیمتوں کے نوٹیفکیشن میں تاخیر سے متعلق ایک الگ نوٹس شامل تھا۔ صدر کے پارلیمان سے خطاب پر شکریے کی تحریک بھی ایجنڈے کا حصہ تھی۔
سپریم کورٹ نے 18 اگست کو عمران خان کی نجی اسپتال منتقلی سے متعلق حکم جاری کیا تھا، جس کی سرکاری اطلاع ریڈیو پاکستان نے بھی دی۔ موجودہ خبر اس حکم کے قانونی نتیجے کا فیصلہ نہیں کرتی بلکہ سینیٹ میں ہونے والی کارروائی، پی ٹی آئی رکن کا منسوب اعتراض، چیئر کی ہدایت، کورم کی ناکامی اور باقی ایجنڈے کے مؤخر ہونے کی رپورٹ ہے۔ اگلی پیش رفت پیر کے اجلاس، متعلقہ توجہ دلاؤ نوٹس یا عدالت کی آئندہ سماعت سے سامنے آئے گی۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




