آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے خطے میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک سے پیدا ہونے والی سیاسی صورت حال کے حل کے لیے مذاکرات پر زور دیا ہے۔ ڈان اور ایکسپریس ٹریبیون کی 22 اگست کی رپورٹس کے مطابق انہوں نے کشمیر ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آنے والی حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج موجودہ بحران سے نمٹنا ہوگا اور ان کے نزدیک بات چیت ہی قابل عمل راستہ ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئی حکومت کی تشکیل کے بعد مسئلے کو سیاسی طریقے سے آگے بڑھایا جاسکے گا۔
رپورٹس کے مطابق فیصل راٹھور نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے سچ اور مفاہمتی کمیشن قائم کرنے کی تجویز کی بھی حمایت کی۔ ان کا مؤقف تھا کہ ایسا ادارہ مختلف فریقوں کو بحران سے نکلنے کے لیے مشترک راستہ فراہم کرسکتا ہے۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو آزاد کشمیر حکومت نے جون میں ممنوع قرار دیا تھا اور اس کے بعد تنظیم کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف کارروائیاں بھی ہوئیں۔ یہ پس منظر اس بیان کو محض معمول کی سیاسی گفتگو کے بجائے جاری تنازع کے ممکنہ سیاسی حل سے جوڑتا ہے۔
آزاد کشمیر کے وزیراعظم نے حالیہ انتخابات کے بارے میں بھی سیاسی اعتراضات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کو برابر مواقع نہیں ملے اور مسلم لیگ (ن) کی علاقائی قیادت نے اقتدار حاصل کرنے کی جلدی میں انتخابات اور حکومت سازی کو ترجیح دی۔ یہ الزامات فیصل راٹھور اور پیپلز پارٹی کا مؤقف ہیں، کسی عدالتی یا انتخابی ٹریبونل کا ثابت شدہ فیصلہ نہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جس امیدوار کو دھاندلی کی شکایت ہو وہ ثبوت کے ساتھ آئینی اور قانونی فورمز، بشمول انتخابی ٹریبونلز، سے رجوع کرسکتا ہے۔
ڈان کے مطابق براہ راست منتخب 38 نشستوں میں مسلم لیگ (ن) نے 25 اور پیپلز پارٹی نے 12 نشستیں حاصل کیں، جبکہ ایک منتخب رکن کی حمایت کے بعد مسلم لیگ (ن) کے اتحاد کی تعداد 26 ہوگئی۔ آٹھ مخصوص نشستوں کے انتخابات 24 اگست کو طے ہیں۔ اس مرحلے پر حکومت سازی، انتخابی شکایات اور ایکشن کمیٹی کے ساتھ تعلقات تین الگ مگر باہم جڑے سیاسی معاملات ہیں؛ کسی ایک بیان کو ان سب کے حتمی حل کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا۔
فیصل راٹھور نے آزاد کشمیر کے انتظامی نظام میں اصلاحات کی ضرورت بھی بیان کی اور کہا کہ خطے کو صرف تحریک آزادی کے روایتی ’بیس کیمپ‘ کے تصور تک محدود رکھنے کے بجائے تعمیر و ترقی، سیاحت اور زراعت پر توجہ دینی چاہیے۔ ان کے اس مؤقف کا عملی امتحان نئی حکومت کی تشکیل، مخصوص نشستوں کے انتخاب، شکایات کے قانونی عمل اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ ممکنہ مذاکرات سے ہوگا۔ فی الحال مصدقہ پیش رفت وزیراعظم کی جانب سے مذاکرات اور مفاہمتی کمیشن کی حمایت تک محدود ہے؛ کسی باقاعدہ مذاکراتی شیڈول یا فریقین کے نئے معاہدے کا اعلان سامنے نہیں آیا۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




