سندھ حکومت نے قومی اقتصادی کونسل کی انتظامی کمیٹی، ایکنک، کے اجلاس میں حیدرآباد سکھر موٹروے سے پہلے پنجاب میں ایک نیا موٹروے منصوبہ شروع کرنے پر وفاق سے اعتراض کیا ہے۔ ایکسپریس اردو کی 22 اگست کی رپورٹ کے مطابق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت اجلاس میں صوبائی وزیر جام خان شورو نے مطالبہ کیا کہ لاہور سیالکوٹ سے متعلق نئے 296 کلومیٹر منصوبے سے پہلے سندھ کے دیرینہ حیدرآباد سکھر موٹروے پر عملی کام شروع کیا جائے۔

جام خان شورو نے اجلاس میں مؤقف اختیار کیا کہ حیدرآباد سکھر موٹروے کئی برس سے اہم اور زیر التوا منصوبہ ہے اور دو وزرائے اعظم کے وعدوں کے باوجود اس پر پیش رفت نہیں ہوئی۔ انہوں نے وفاقی ترجیحات کو سندھ کے ساتھ وعدہ خلافی قرار دیا۔ یہ صوبائی حکومت اور وزیر کا اعتراض ہے؛ رپورٹ میں وفاقی حکومت کا تفصیلی جواب، دونوں منصوبوں کی تازہ لاگت یا ایکنک کا حتمی فیصلہ شامل نہیں۔

حیدرآباد سے سکھر تک بہتر موٹروے رابطہ سندھ کے بڑے شہری و تجارتی مراکز اور قومی شاہراہوں کے درمیان سفر اور مال برداری کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔ تاہم کسی منصوبے کی ترجیح طے کرنے میں منظوری، مالی بندوبست، زمین، ڈیزائن، تعمیراتی پیکیج اور عمل درآمد کی استعداد جیسے کئی مرحلے شامل ہوتے ہیں۔ موجودہ خبر ان مراحل کے مکمل ہونے کا اعلان نہیں بلکہ ایکنک اجلاس میں ترجیحی ترتیب پر صوبائی اعتراض کی اطلاع ہے۔

اس معاملے میں اگلی قابلِ تصدیق پیش رفت ایکنک کے تحریری فیصلے، سرکاری اجلاس کے منٹس، بجٹ مختص ہونے یا حیدرآباد سکھر موٹروے کے تعمیراتی شیڈول کے اجرا سے سامنے آئے گی۔ جب تک ایسا ریکارڈ جاری نہیں ہوتا، یہ کہنا درست ہوگا کہ سندھ نے اپنا اعتراض اور ترجیحی مطالبہ باضابطہ اجلاس میں اٹھایا ہے، مگر وفاقی سطح پر منصوبوں کی ترتیب کا حتمی نتیجہ ابھی رپورٹ نہیں ہوا۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک