کراچی کے مختلف علاقوں میں بجلی اور پانی کی مسلسل بندش کے خلاف شہری احتجاج سڑکوں پر آگیا، جس سے کئی اہم راستوں پر ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔ ایکسپریس اردو کی 22 اگست کی رپورٹ کے مطابق پاک کالونی میں منگھوپیر روڈ پر بسم اللہ ہوٹل اور ریکسر لائن کے قریب مظاہرین نے ٹریفک روکی، جبکہ لیاقت آباد میں غریب آباد کے قریب حسن اسکوائر جانے والی سڑک پر بھی احتجاج کے باعث گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں۔
مظاہرین نے کے الیکٹرک اور متعلقہ حکام کے خلاف نعرے لگائے اور بجلی و پانی کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا۔ ان کے مطابق پرانا گولیمار، ڈاکخانہ والی گلی، ولی محمد گوٹھ، پریل محلہ، عائشہ ولیج، غریب نواز کالونی، ریکسر لائن، تاج الدین بابا ولیج، ساجد والی گلی اور ٹرانس لیاری پارک کے اطراف سمیت متعدد محلوں میں تین روز سے بجلی بند تھی، جس کے نتیجے میں پانی کی قلت بھی پیدا ہوئی۔ یہ دورانیہ اور متاثرہ مقامات مظاہرین کے بیانات سے منسوب ہیں۔
رپورٹ کے مطابق لیاقت آباد کے احتجاج میں ٹائر اور کچرا جلایا گیا اور ٹریفک معطل ہوئی۔ بنارس چوک کے قریب منگھوپیر روڈ پر بھی علاقہ مکینوں نے سڑک بند کرکے بنیادی سہولتوں کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔ خبر میں کسی جانی نقصان یا پولیس کارروائی کی اطلاع نہیں، البتہ ٹریفک جام میں پھنسے شہریوں نے وقت اور ایندھن کے ضیاع کی شکایت کی۔
بجلی اور پانی کی بندش ایک دوسرے سے جڑی ہوسکتی ہے کیونکہ پمپنگ اور مقامی تقسیم کے کئی مراحل بجلی پر منحصر ہوتے ہیں، مگر موجودہ رپورٹ میں تکنیکی خرابی کی سرکاری وجہ یا بحالی کا حتمی وقت نہیں دیا گیا۔ اس لیے مصدقہ دائرہ احتجاج، بیان کردہ علاقوں، تین روزہ بندش کے شہری دعوے اور ٹریفک میں خلل تک محدود ہے۔ اگلی قابلِ تصدیق پیش رفت متعلقہ اداروں کے باقاعدہ جواب یا سپلائی بحال ہونے کی اطلاع ہوگی۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




