امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے حکومت سے پیٹرولیم لیوی اور ایندھن پر دیگر ٹیکس ختم کرکے پیٹرول کی قیمت تین سال کے لیے 225 روپے فی لیٹر مقرر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ڈان کی 22 اگست کی رپورٹ کے مطابق کراچی میں جماعت اسلامی کے دھرنے کے چھٹے روز خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے لیوی واپس نہ لی اور احتجاج نظر انداز کیا تو ملک بھر سے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا جائے گا۔
حافظ نعیم نے ڈیزل کی قیمت میں 32 روپے فی لیٹر کمی کو ناکافی قرار دیا اور کہا کہ ایندھن پر عائد ٹیکس عام شہریوں کی لاگت بڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے آزاد بجلی پیدا کرنے والے اداروں کے معاہدوں، صلاحیتی ادائیگیوں اور بجلی کے نرخوں پر بھی تنقید کی۔ یہ مطالبات اور اعداد جماعت اسلامی کے سربراہ کے سیاسی بیان سے منسوب ہیں؛ انہیں حکومت کی جانب سے منظور شدہ نئی قیمت یا غیر متنازع سرکاری حساب نہیں سمجھنا چاہیے۔
رپورٹ کے مطابق حافظ نعیم نے گزشتہ مالی سال پیٹرولیم لیوی سے وصولی، سرکاری شعبے میں مفت ایندھن و بجلی اور آئی پی پی مذاکرات سے مبینہ بچت کے مختلف اعداد بھی بیان کیے۔ دستیاب رپورٹ میں ان تمام دعوؤں کی الگ سرکاری آڈٹ دستاویز نہیں دی گئی، اس لیے خبر میں انہیں مقرر کے دعوؤں کے طور پر برقرار رکھا گیا ہے۔ دھرنے میں مختلف سیاسی و مذہبی پس منظر رکھنے والے شہریوں کو شامل ہونے کی اپیل بھی کی گئی۔
اسلام آباد مارچ کا اعلان مستقبل کی سیاسی حکمت عملی ہے، فوری روانگی یا حتمی تاریخ کی تصدیق نہیں۔ اس خبر کا قابلِ تصدیق مرکز کراچی دھرنے میں دیا گیا خطاب، 225 روپے قیمت کا مطالبہ، لیوی ختم کرنے کی شرط اور مطالبہ نہ ماننے پر مارچ کی تنبیہ ہے۔ اگلی عملی پیش رفت جماعت اسلامی کے باقاعدہ شیڈول، حکومت کے جواب یا پیٹرولیم نرخوں کے نئے نوٹیفکیشن سے واضح ہوگی۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




