وزیراعظم شہباز شریف نے نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سینٹر، جسے این اے آر سی کہا جاتا ہے، میں ادارہ جاتی اصلاحات اور کسانوں تک تصدیق شدہ معیاری بیج پہنچانے کے جامع منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ ایکسپریس اردو کی 22 اگست کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نے زرعی پیداوار میں فی ایکڑ اضافہ، تحقیق کے عملی نتائج اور کسانوں کو جدید سہولتوں کی فراہمی کو ترجیح قرار دیا۔ منصوبے کا بنیادی مقصد تحقیق، بیج، مالی معاونت اور زرعی مشینری کے نظام کو ایک دوسرے سے جوڑنا ہے تاکہ پالیسی اور کھیت کے درمیان موجود فاصلہ کم کیا جا سکے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ چین سے زرعی تربیت حاصل کرنے والے طلبہ اور ماہرین کی صلاحیتوں سے بھی فائدہ اٹھایا جائے گا۔ این اے آر سی اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈھالنے، تحقیقی مراکز کی کارکردگی بہتر بنانے اور لیبارٹری نظام کو مضبوط کرنے کی ہدایت دی گئی۔ گندم کی قومی ضرورت، زیرِ کاشت رقبے اور متوقع پیداوار کے بارے میں جامع نظام تیار کرنے کا بھی ذکر کیا گیا تاکہ بروقت اور بہتر فیصلے ممکن ہوں۔
رپورٹ کے مطابق ایگریکلچر انوویشن اینڈ گروتھ پلان 2026-27 میں زرعی قرض، جدید مشینری، ری فنانسنگ، فصل بیمہ، الیکٹرانک ویئرہاؤس رسید کی بنیاد پر مالی سہولت اور مشینری فنانس جیسے اقدامات شامل ہیں۔ ان نکات کی عملی شکل، اہلیت کے معیار اور نفاذ کا شیڈول متعلقہ اداروں کی آئندہ تفصیلی ہدایات سے واضح ہوگا۔ اس لیے موجودہ منظوری کو پالیسی سمت اور انتظامی فریم ورک سمجھنا مناسب ہے، فوری طور پر ہر کسان کے لیے خودکار مالی سہولت نہیں۔
اجلاس میں تمباکو سے متعلق نظام کی آٹومیشن، سپارکو کے ذریعے فصلوں کے جائزے اور کیڑوں یا پودوں کے مسائل کی شناخت کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایپ کے استعمال پر بھی بات ہوئی۔ بلوچستان میں نامیاتی زراعت کے کلسٹرز، مختلف اضلاع میں تحقیقی سرگرمیوں اور مراکزِ فضیلت قائم کرنے کی تجاویز منصوبے کا حصہ بتائی گئی ہیں۔ ان اقدامات سے مقامی حالات کے مطابق تحقیق اور فصلوں کے انتخاب میں مدد مل سکتی ہے، تاہم کامیابی کا انحصار مسلسل فنڈنگ، تربیت اور کسانوں تک رسائی پر ہوگا۔
این اے آر سی کے ماسٹر پلان میں ریفرنس لیبارٹریاں، ریسرچ پارکس، بین الاقوامی تعاون، عملی تجربات کے لیے لیونگ لیب اور عوامی آگاہی کے لیے ڈسکوری پارک جیسے اجزا شامل کیے گئے ہیں۔ وزیراعظم نے ماسٹر پلان کی منظوری دیتے ہوئے معیار، شفافیت اور قابلِ پیمائش نتائج پر توجہ کی ہدایت کی۔ اعلان میں کسی مخصوص فصل کی قیمت، کسان کو ملنے والی انفرادی رقم یا فوری پیداوار کے کسی عددی ہدف کی ضمانت نہیں دی گئی، اس لیے ایسے نتائج بعد کے نفاذ اور سرکاری تفصیلات سے ہی جانچے جا سکیں گے۔
زرعی شعبے میں معیاری بیج، قابلِ اعتماد اعدادوشمار اور تحقیق کی بروقت منتقلی پیداوار کے بنیادی عوامل ہیں۔ نئی منظوری سے ان شعبوں کو ایک مربوط ڈھانچے میں لانے کی کوشش سامنے آئی ہے۔ اگلا اہم مرحلہ ذمہ دار اداروں، مدت، بجٹ، صوبائی رابطے اور کسانوں کے لیے عملی طریقۂ کار کا اعلان ہوگا۔ اردو ہیڈلائنز اس منصوبے سے متعلق آئندہ سرکاری تفصیلات اور زمینی پیش رفت کو الگ الگ رپورٹ کرے گا۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




