اسلام آباد میں 11 ستمبر 2026 کو فرسٹ لیڈی آصفہ بھٹو زرداری نے بچوں کے تحفظ سے متعلق ایک بیان میں کہا کہ ہر بچے کو محفوظ ماحول میں پرورش پانے کا مکمل حق حاصل ہے۔ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ بچے کو گھر، اسکول، کمیونٹی اور بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل دنیا میں بھی تحفظ ملنا چاہیے۔

بیان میں بچوں کے خلاف تشدد، بدسلوکی، استحصال اور غفلت کو ناقابل قبول قرار دیا گیا۔ فرسٹ لیڈی کے مطابق کسی بچے کو نقصان پہنچنے کو نجی معاملہ، سماجی روایت یا بدقسمت واقعہ کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ بچے کے تحفظ کی ذمہ داری خاندان کے ساتھ معاشرے اور اداروں پر بھی عائد ہوتی ہے۔

ڈیجیٹل ماحول کا حوالہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ بچوں کے تحفظ کے چیلنجز اب صرف جسمانی مقامات تک محدود نہیں رہے۔ انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل ذرائع کے بڑھتے استعمال کے ساتھ والدین، تعلیمی اداروں اور متعلقہ حکام کے لیے آن لائن حفاظت اور ذمہ دارانہ استعمال کے مسائل بھی اہم ہو گئے ہیں۔

سرکاری بیان بنیادی طور پر بچوں کے تحفظ اور معاشرتی ذمہ داری کے اصول پر زور دیتا ہے۔ دستیاب متن میں کسی نئے قانون، مخصوص سرکاری پروگرام یا فوری انتظامی اقدام کا اعلان شامل نہیں تھا۔ اس لیے اس بیان کو پالیسی کے بجائے بچوں کے حقوق اور تحفظ سے متعلق ایک واضح عوامی موقف کے طور پر پیش کرنا زیادہ درست ہے۔

بچوں کے تحفظ کے مؤثر نظام کے لیے قانون، تعلیم، سماجی آگاہی اور ادارہ جاتی عملدرآمد سب اہم ہوتے ہیں۔ فرسٹ لیڈی کے بیان کے مطابق بنیادی اصول یہ ہے کہ بچوں کے خلاف تشدد، استحصال اور غفلت کو کسی صورت معمول نہیں سمجھا جا سکتا اور ہر بچے کی حفاظت اجتماعی ذمہ داری ہے۔