کراچی: پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی ملک کے دو بڑے ہوائی اڈوں، کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ، پر ایئر ٹریفک مینجمنٹ کے نظام کو جدید بنانے کے لیے تقریباً 10 ارب روپے کا منصوبہ آگے بڑھا رہی ہے۔ منصوبے میں نئے ایئر ٹریفک مینجمنٹ سسٹمز کے ساتھ وائس کمیونیکیشن اور کنٹرول سسٹم کی تنصیب بھی شامل ہے۔
ایکسپریس ٹریبیون نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ کراچی اور لاہور کے ایئر ٹریفک کنٹرول مراکز کو جدید تقاضوں کے مطابق اپ گریڈ کیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد فضائی ٹریفک کی نگرانی، رابطے اور کنٹرول کے بنیادی تکنیکی ڈھانچے کو نئی نسل کے نظاموں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق نئے ایئر ٹریفک مینجمنٹ سسٹم کی تنصیب کے لیے تکنیکی بولیاں کھولنے کا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے۔ تکنیکی جانچ میں اہل قرار پانے والے بولی دہندگان کی مالی پیشکشیں اگلے مرحلے میں کھولی جائیں گی۔ اس کا مطلب ہے کہ منصوبہ ابھی خریداری اور انتخاب کے عمل میں ہے اور حتمی ٹھیکہ یا تنصیب مکمل ہونے کا مرحلہ نہیں آیا۔
ایئر ٹریفک مینجمنٹ کا نظام ہوائی جہازوں کی آمد و رفت، فضائی راستوں، ٹیک آف اور لینڈنگ کے دوران کنٹرولرز کو ضروری معلومات اور رابطے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ وائس کمیونیکیشن سسٹم پائلٹس اور زمینی کنٹرول کے درمیان محفوظ اور مسلسل رابطے کے لیے اہم ہوتا ہے، اس لیے دونوں نظاموں کی مشترکہ جدیدکاری آپریشنل صلاحیت اور رابطے کے معیار کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
کراچی اور لاہور پاکستان کے مصروف ترین فضائی مراکز میں شامل ہیں اور ملکی و بین الاقوامی پروازوں کا بڑا حصہ ان ہوائی اڈوں سے منسلک ہے۔ ان مقامات پر کنٹرول سسٹم کی اپ گریڈیشن پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے وسیع تر انفراسٹرکچر جدیدکاری پروگرام کا حصہ بتائی گئی ہے۔
منصوبے کی رپورٹ شدہ لاگت 10 ارب روپے ہے، تاہم خریداری کے جاری مرحلے کے باعث حتمی مالی قیمتیں بولیوں کی جانچ اور متعلقہ منظوریوں کے بعد سامنے آئیں گی۔ اسی طرح نظام کی تنصیب اور فعال ہونے کی حتمی مدت کے بارے میں رپورٹ میں کوئی مکمل شیڈول نہیں دیا گیا، اس لیے موجودہ پیش رفت کو منصوبے کے نفاذ سے پہلے کے تکنیکی و مالی انتخابی مرحلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پاکستان کی فضائی ٹریفک میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال عالمی شہری ہوا بازی کے حفاظتی اور آپریشنل معیارات سے ہم آہنگ رہنے کے لیے اہم ہے۔ نئے نظاموں کی کامیاب تنصیب کے بعد کنٹرول مراکز کو جدید مواصلاتی اور ٹریفک مینجمنٹ سہولتیں میسر آ سکتی ہیں، تاہم اس کے عملی فوائد کا جائزہ نظام کے فعال ہونے کے بعد ہی لیا جا سکے گا۔




