گوجرانوالہ: جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے پیٹرولیم لیوی کے خلاف 20 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کا اعلان کر دیا ہے۔ گوجرانوالہ میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر حکومت مارچ سے پہلے لیوی واپس نہیں لیتی تو جماعت اسلامی اپنی احتجاجی مہم کو وفاقی دارالحکومت میں فیصلہ کن مرحلے میں داخل کرے گی۔

حافظ نعیم الرحمن کے مطابق ملک کے مختلف حصوں سے جماعت اسلامی کے کارکن اور حامی قافلوں کی صورت میں اسلام آباد پہنچیں گے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پٹرول اور ڈیزل پر عائد ٹیکس اور ڈیوٹیز میں فوری کمی کی جائے تاکہ عام صارفین، ٹرانسپورٹرز اور کاروباری طبقے کو ریلیف مل سکے۔

موجودہ حکومتی ساخت کے تحت پٹرول پر مجموعی طور پر 114 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل پر تقریباً 100 روپے فی لیٹر ٹیکس اور ڈیوٹیز وصول کی جا رہی ہیں۔ جماعت اسلامی کئی ہفتوں سے اس پالیسی کے خلاف ملک کے مختلف شہروں میں دھرنے اور احتجاج کر رہی ہے۔ پارٹی کے مطابق لاہور، پشاور، کراچی اور دیگر مقامات پر جاری احتجاجی سرگرمیاں اب اسلام آباد مارچ کے ذریعے مرکزی مرحلے میں داخل ہوں گی۔

گوجرانوالہ کے اجتماع میں جماعت اسلامی کے مرکزی اور صوبائی رہنما بھی شریک تھے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پارٹی کی قیادت نے لاہور کے منصورہ میں مشاورت کے بعد احتجاجی مہم کے اگلے مرحلے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اسلام آباد میں خواتین کا الگ عوامی اجتماع بھی منعقد کیا جائے گا اور جاری دھرنوں کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔

حافظ نعیم نے حکومت کی معاشی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پیٹرولیم لیوی کی مد میں عوام سے بہت بڑی رقم وصول کی جا چکی ہے۔ انہوں نے ریاستی اخراجات، بجلی کے شعبے اور ٹیکس پالیسیوں پر بھی سوالات اٹھائے۔ ان کے بعض سیاسی اور معاشی الزامات جماعت اسلامی کے مؤقف کی نمائندگی کرتے ہیں اور حکومت کی جانب سے ان دعوؤں پر تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

جماعت اسلامی نے اس سے پہلے بھی پیٹرولیم لیوی کے خلاف صوبائی دارالحکومتوں میں دھرنوں اور ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔ تازہ اعلان اس مہم کا تسلسل ہے، تاہم 20 ستمبر کے مارچ کی نوعیت، راستوں، شرکا کی تعداد اور حکومت کے ساتھ ممکنہ مذاکرات سے متعلق مزید تفصیلات بعد میں سامنے آنے کی توقع ہے۔

حکومت نے حالیہ ہفتوں میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں متعدد بار تبدیلی کی ہے اور عالمی تیل کی قیمتوں، مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور درآمدی لاگت کو قیمتوں میں اضافے کی اہم وجوہات قرار دیا ہے۔ جماعت اسلامی کا مؤقف ہے کہ عالمی عوامل کے باوجود مقامی ٹیکس اور لیوی کا بوجھ کم کیا جا سکتا ہے۔