وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کی زیر صدارت 11 ستمبر 2026 کو گلگت بلتستان ایشوز ورکنگ گروپ کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا جس میں خطے کے آئینی، قانونی، مالی اور انتظامی معاملات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق وفاقی حکومت نے مستقبل کے انتظامی اور آئینی بندوبست پر وسیع مشاورت جاری رکھنے اور تمام متعلقہ فریقوں کو عمل میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اجلاس میں گلگت بلتستان حکومت، وزارت دفاع، وزارت خارجہ، وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان اور گلگت بلتستان کونسل کے حکام نے شرکت کی۔ شرکا نے ماضی کی مختلف رپورٹس، آئینی و قانونی تجاویز، مالی وسائل کے ممکنہ ماڈلز اور موجودہ حکمرانی کے ڈھانچے کے اندر عملی اصلاحات کے امکانات کا جائزہ لیا۔ وزیر قانون نے کہا کہ آئینی معاملات کو الگ تھلگ نہیں دیکھا جائے گا بلکہ مالی، انتظامی اور آئینی پہلوؤں کو ایک مربوط فریم ورک میں زیر غور لایا جائے گا۔

اعلامیے کے مطابق ورکنگ گروپ کو ہدایت دی گئی کہ وہ گلگت بلتستان کے مسائل کے حل کے لیے عملی، قابل عمل اور قانونی طور پر قابل نفاذ تجاویز تیار کرے۔ جامع مشاورت کے بعد ایک عبوری رپورٹ تیار کر کے سفارشات کے ساتھ مرکزی کمیٹی کے سامنے پیش کی جائے گی۔ وزیر قانون نے واضح کیا کہ کسی متفقہ آئینی و قانونی حل تک پہنچنے میں مزید وقت درکار ہوگا، اس لیے مشاورتی عمل کو مرحلہ وار آگے بڑھایا جائے گا۔

اگلے اجلاس میں گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ اور قائد حزب اختلاف کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے تاکہ دونوں سیاسی فریقوں کا نقطۂ نظر براہ راست مشاورت کا حصہ بن سکے۔ اعظم نذیر تارڑ کے مطابق گلگت بلتستان کے آئینی معاملات پر قومی اتفاق رائے اہم ہے اور متعلقہ جماعتوں، اداروں اور مقامی نمائندوں کی آرا کو مناسب طور پر شامل کیا جانا چاہیے۔

وزیر قانون نے یہ بھی کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق کا تحفظ اور انہیں مساوات کا احساس دلانا حکومت کی ترجیح ہے۔ تاہم اجلاس میں کسی مخصوص آئینی ترمیم، صوبائی حیثیت، نمائندگی کے حتمی ماڈل یا مالی فارمولے کی منظوری نہیں دی گئی۔ اس مرحلے پر فیصلہ مشاورت کو آگے بڑھانے، مختلف ماڈلز کا جائزہ لینے اور قابل عمل سفارشات تیار کرنے تک محدود ہے۔

گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت طویل عرصے سے قومی سطح پر قانونی اور سیاسی بحث کا موضوع رہی ہے۔ تازہ ورکنگ گروپ کا عمل اس بحث کو ادارہ جاتی طریقے سے آگے بڑھانے کی کوشش ہے، مگر حتمی حل کے لیے وسیع سیاسی اتفاق رائے، آئینی تقاضوں اور وفاقی و مقامی اداروں کے درمیان ہم آہنگی ضروری ہوگی۔