اسلام آباد میں 11 ستمبر 2026 کو وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات اور ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن احسن اقبال کی زیر صدارت مرکزی ترقیاتی ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) کا اجلاس ہوا جس میں قومی معیشت کے مختلف شعبوں سے متعلق ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق اجلاس میں مجموعی طور پر سات منصوبے زیر غور آئے جن کی کل مالیت تقریباً 116 ارب روپے بنتی ہے۔
اعلامیے میں بتایا گیا کہ سی ڈی ڈبلیو پی نے پانچ منصوبوں کی منظوری دی جن کی مجموعی لاگت 21.590 ارب روپے ہے، جبکہ دو بڑے منصوبوں کو مزید منظوری کے لیے ایگزیکٹو کمیٹی آف دی نیشنل اکنامک کونسل (ایکنک) کو بھیجنے کی سفارش کی گئی۔ ان دونوں منصوبوں کی مجموعی مالیت 94.301 ارب روپے بتائی گئی ہے۔ اس طرح اجلاس میں زیر غور منصوبوں کی مجموعی مالیت 115.891 ارب روپے بنتی ہے، جسے سرکاری بیان میں تقریباً 116 ارب روپے قرار دیا گیا۔
اجلاس میں وفاقی و صوبائی اداروں کے متعلقہ حکام، سیکریٹری منصوبہ بندی، چیف اکانومسٹ، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس کے وائس چانسلر، پلاننگ کمیشن کے ارکان، وفاقی سیکریٹریز اور صوبائی منصوبہ بندی و ترقی کے محکموں کے نمائندے شریک ہوئے۔ حکومت نے ان منصوبوں کو اڑان پاکستان کے وسیع تر اصلاحاتی اور ترقیاتی فریم ورک سے جوڑا ہے، جس کا مقصد بنیادی ڈھانچے، معاشی پیداوار اور سرکاری ترقیاتی ترجیحات میں پیش رفت تیز کرنا ہے۔
سی ڈی ڈبلیو پی پاکستان کے ترقیاتی منصوبہ بندی نظام میں ایک اہم فورم ہے۔ مخصوص مالی حد سے کم لاگت کے منصوبے یہ فورم خود منظور کر سکتا ہے، جبکہ زیادہ لاگت یا قومی اہمیت کے منصوبوں کو ایکنک کے سامنے بھیجنے کی سفارش کی جاتی ہے۔ اس لیے دو بڑے منصوبوں کی ایکنک کو سفارش حتمی منظوری نہیں بلکہ اگلے مرحلے میں منتقلی ہے۔
سرکاری پریس ریلیز میں اجلاس کا مجموعی مالی حجم، منظور شدہ اور ایکنک کو بھیجے گئے منصوبوں کی مالیت واضح کی گئی، تاہم ہر منصوبے کی مکمل تفصیل اسی مختصر اعلامیے میں فراہم نہیں کی گئی۔ اس خبر میں صرف انہی اعداد اور فیصلوں کو شامل کیا گیا ہے جن کی سرکاری طور پر تصدیق کی گئی ہے۔




