اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے ضلعی عدلیہ کو ملک کے نظام انصاف کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کا ریاستی اداروں سے پہلا باقاعدہ رابطہ اکثر ضلعی عدالتوں کے ذریعے ہوتا ہے، اس لیے ان عدالتوں کو مضبوط بنانا عدلیہ پر اعتماد بڑھانے کے لیے بنیادی شرط ہے۔

اسلام آباد میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ عدلیہ پر عوامی اعتماد کسی اعلان یا منصب سے خودبخود پیدا نہیں ہوتا بلکہ دیانت، قابلیت، انصاف، ہمدردی اور ایسے ادارہ جاتی ڈھانچے سے حاصل ہوتا ہے جو ججوں کو آزادانہ اور مؤثر انداز میں کام کرنے کے قابل بنائے۔

انہوں نے بتایا کہ چیف جسٹس کا منصب سنبھالنے کے بعد انہوں نے چترال، گوادر، صادق آباد، بہاولنگر اور نگرپارکر سمیت ملک کے دور دراز عدالتی مراکز کا دورہ کیا۔ ان دوروں کے دوران انہیں ضلعی عدلیہ اور نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے درمیان رابطے میں خلا محسوس ہوا۔ اس کے بعد ہر صوبے کے لیے اضافی سیکریٹری مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ ہائی کورٹس، ضلعی عدالتوں اور کمیٹی کے درمیان مؤثر رابطہ قائم ہو سکے۔

چیف جسٹس کے مطابق ضلعی عدالتوں سے آنے والے منصوبوں کی منظوری میں پہلے تین سے چار ماہ لگ جاتے تھے اور بعض منصوبے لاگت بڑھنے کے باعث مکمل نہیں ہو پاتے تھے۔ اب رسائی انصاف فنڈ سے متعلق منصوبوں کی منظوری اور فنڈز کے اجرا کے لیے 21 دن کی مدت مقرر کی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ضلعی عدلیہ سے اپنی فوری ضروریات کی فہرست مانگی گئی تھی جس میں چار شعبے نمایاں رہے: بلا تعطل بجلی، انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی، خواتین کے لیے بنیادی سہولیات اور صاف پانی۔ نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی نے ان شعبوں کے لیے فنڈز مختص کیے۔ چیف جسٹس کے مطابق گزشتہ بیس برس میں رسائی انصاف فنڈ سے تقریباً 900 ملین روپے جاری ہوئے تھے، جبکہ صرف ایک سال میں ان ترجیحی منصوبوں کے لیے 3.4 ارب روپے جاری کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور اسلام آباد کی تحصیل عدالتوں میں شمسی توانائی کے نظام نصب کیے جا چکے ہیں، جبکہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں سامان کی ترسیل کے باعث کچھ مشکلات پیش آئیں۔ وہاں بھی کام مکمل کرنے کے لیے ایک محدود مدت مقرر کی گئی ہے۔

چیف جسٹس نے عدالتی افسران کے ضابطہ اخلاق اور بیرونی دباؤ سے نمٹنے کے طریقہ کار کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ عدالتی افسران کو ادارہ جاتی تحفظ ملنا چاہیے، تاہم اس تحفظ کی بنیاد دیانت اور غیر جانبداری ہوگی۔

انہوں نے پاکستان کی کمزور رینکنگ والے رول آف لا انڈیکس پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ عدلیہ کی کارکردگی اور سہولیات سے متعلق قابل پیمائش اعدادوشمار مستقبل میں متعلقہ اداروں کو فراہم کیے جائیں گے تاکہ زمینی حقائق کو زیادہ درست انداز میں جانچا جا سکے۔