اسلام آباد میں 11 ستمبر 2026 کو وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے تصفیہ امورِ قانون سازی کے اجلاس میں مختلف قانونی اور انتظامی تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق کمیٹی نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی آرڈیننس 2002 میں مخصوص ترامیم، نئے پبلک پروکیورمنٹ رولز 2025، جغرافیائی اشاریہ ایکٹ 2020 کو متعلقہ شیڈول میں شامل کرنے اور دو دیگر انتظامی معاملات سمیت مجموعی طور پر پانچ امور کی منظوری دی۔
اجلاس میں کنڈیمنٹ الاؤنس ختم کرنے اور دانش اسکولز اتھارٹی (ترمیمی) بل 2026 میں ایک مخصوص ترمیم بھی زیر غور آئی۔ اعلامیے کے مطابق کمیٹی نے ان سمیت پانچوں معاملات منظور کر کے مزید ضروری کارروائی کے لیے متعلقہ وزارتوں اور ڈویژنز کو بھیج دیے۔ یہ مرحلہ متعلقہ قانونی یا انتظامی عمل کا حصہ ہے اور ہر معاملے میں حتمی نفاذ اپنی متعلقہ آئینی، قانونی یا انتظامی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہوگا۔
کمیٹی نے ریلوے کی اراضی کے مؤثر استعمال اور اس سے حاصل ہونے والی آمدن سے متعلق امور کا بھی جائزہ لیا۔ حکام نے اجلاس کو ریلوے زمین سے حاصل ہونے والی آمدن میں اضافے اور دستیاب و متوقع اراضی کی صورتحال پر بریفنگ دی۔ تاہم ریلوے زمین سے متعلق قواعد میں مجوزہ ترامیم کو فوری طور پر منظور نہیں کیا گیا۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ متعلقہ ادارے مزید مشاورت کریں اور وضاحتوں کے ساتھ معاملہ دوبارہ پیش کیا جائے۔
اسی طرح ڈرگز (ریسرچ) رولز 1978 میں مجوزہ ترمیم بھی مزید غور و مشاورت کے لیے مؤخر کر دی گئی۔ سرکاری بیان میں واضح کیا گیا کہ مؤخر کیے گئے معاملات اگلے اجلاس میں متعلقہ وزارتوں اور محکموں سے مزید وضاحت حاصل کرنے کے بعد دوبارہ کمیٹی کے سامنے رکھے جائیں گے۔
کابینہ کمیٹی برائے تصفیہ امورِ قانون سازی وفاقی حکومت میں ایسے قانونی و انتظامی معاملات کی جانچ کرتی ہے جنہیں وزارتوں اور ڈویژنز کے درمیان قانون سازی یا قواعد و ضوابط کے تناظر میں ہم آہنگی درکار ہو۔ اس اجلاس کے فیصلوں میں سرکاری خریداری کے قانونی ڈھانچے سے متعلق تبدیلیاں خاص اہمیت رکھتی ہیں کیونکہ پبلک پروکیورمنٹ قواعد وفاقی اداروں کی خریداری، شفافیت اور طریقہ کار پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔ تاہم سرکاری اعلامیے میں منظور شدہ ترامیم کا مکمل متن جاری نہیں کیا گیا، اس لیے اس خبر میں صرف ان امور کو بیان کیا گیا ہے جن کی سرکاری سطح پر تصدیق ہوئی ہے۔




