لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب کے میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں کو زیر تعلیم افغان طلبہ کو اداروں سے نکالنے یا ان کے امتحانات منسوخ کرنے سے روک دیا ہے۔ عدالت نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی 31 جولائی اور یکم ستمبر کو جاری کردہ متعلقہ ہدایات پر عمل درآمد بھی معطل کر دیا۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق جسٹس خالد اسحاق نے 30 سے زائد افغان ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس طلبہ کی درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے عبوری حکم جاری کیا۔ درخواست گزار لاہور کے کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی، شیخ خلیفہ بن زاید النہیان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج اور سروسز انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز سمیت مختلف اداروں میں زیر تعلیم ہیں۔

عدالت نے وزارت صحت، پی ایم ڈی سی اور متعلقہ تعلیمی اداروں کے وائس چانسلرز سے 18 ستمبر تک جواب طلب کیا ہے۔ سماعت کے دوران پی ایم ڈی سی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ افغان طلبہ کے پاس درست ویزے موجود نہیں۔ عدالت نے سوال اٹھایا کہ داخلے کے وقت انہیں تعلیمی ویزے کس بنیاد پر دیے گئے تھے اور یہ بھی نوٹ کیا کہ کئی طلبہ اپنی طبی تعلیم کے چار سال مکمل کر چکے ہیں۔

درخواست گزاروں کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ طلبہ کو سنے بغیر ان کے خلاف کارروائی کی گئی اور ان کے تعلیم، زندگی اور وقار سے متعلق حقوق متاثر ہوئے۔ انہوں نے یہ بھی استدلال کیا کہ پی ایم ڈی سی نے اپنے قانونی اختیار سے تجاوز کیا۔ یہ نکات درخواست گزاروں کے قانونی دعوے ہیں اور ان پر حتمی فیصلہ ابھی عدالت نے نہیں دیا۔

پی ایم ڈی سی کے وکیل نے ویزا قوانین اور ریاستی سکیورٹی کا حوالہ دیا، تاہم جسٹس خالد اسحاق نے سماعت کے دوران کہا کہ معاملے میں ریاستی سلامتی کا ایسا مسئلہ سامنے نہیں آیا جو طلبہ کو تعلیم مکمل کیے بغیر نکالنے کا جواز بنے۔ عدالت نے حکم دیا کہ متعلقہ طلبہ اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں، امتحانات میں شریک ہوں اور ہاسٹلز واپس جا سکیں۔

پی ایم ڈی سی نے اس سے قبل میڈیکل اور ڈینٹل اداروں کو افغان شہریوں کے نئے داخلوں، ٹرانسفر اور مائیگریشن کی سہولت روکنے اور پہلے سے زیر تعلیم طلبہ کو افغانستان واپس بھیجنے سے متعلق ہدایات دی تھیں۔ ان ہدایات کے بعد متاثرہ طلبہ نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔

عدالت کا موجودہ حکم عبوری نوعیت کا ہے اور درخواستوں کے قانونی نکات پر حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ 18 ستمبر تک سرکاری اداروں کے جوابات آنے کے بعد عدالت پی ایم ڈی سی کے اختیار، ویزا حیثیت اور پہلے سے جاری طبی تعلیم کے تسلسل سے متعلق دلائل کا مزید جائزہ لے گی۔ فی الحال پنجاب کے متعلقہ کالج افغان درخواست گزار طلبہ کو نکالنے یا ان کے امتحانات منسوخ کرنے کے مجاز نہیں ہوں گے۔