کراچی: سندھ اسمبلی نے پاکستان رینجرز کی صوبے میں تعیناتی میں مزید ایک سال کی توسیع کی منظوری دے دی ہے۔ ایوان نے متفقہ قرارداد کے ذریعے رینجرز کی تعیناتی 20 جولائی 2026 سے 19 جولائی 2027 تک جاری رکھنے کی توثیق کی۔ یہ فورس صوبائی سول انتظامیہ کی معاونت کے لیے آئین کے آرٹیکل 147 کے تحت سندھ میں تعینات ہے۔
قرارداد سندھ کے وزیر داخلہ ضیا لنجار نے ایوان میں پیش کی۔ اس میں کہا گیا کہ موجودہ امن و امان کی صورتحال، ممنوعہ تنظیموں کی سرگرمیوں، ہائی پروفائل مفرور ملزمان اور بدلتے ہوئے سکیورٹی ماحول کے باعث رینجرز کی موجودگی بدستور ضروری ہے۔ صوبائی حکومت کے مطابق گزشتہ مدت کے دوران رینجرز نے سندھ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں کیں، اشتہاری مجرموں اور دیگر ملزمان کی گرفتاری میں مدد دی اور غیر قانونی اسلحہ و گولہ بارود برآمد کیا۔
قرارداد میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا گیا کہ رینجرز کی معاونت سے ٹارگٹ کلنگ، اسٹریٹ کرائم اور بعض دیگر سنگین جرائم کے واقعات میں کمی لانے میں مدد ملی۔ سندھ حکومت نے دستیاب سکیورٹی جائزوں کی بنیاد پر قرار دیا کہ آئندہ مدت میں بھی امن عامہ، داخلی سکیورٹی اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے فورس کی تعیناتی برقرار رکھنا ضروری ہے۔
پاکستان رینجرز پہلی مرتبہ 1989 میں سندھ میں تعینات ہوئی تھی اور اس کے بعد مختلف ادوار میں اس کی مدت میں توسیع کی جاتی رہی ہے۔ موجودہ توسیع اس تسلسل کا حصہ ہے جس کے تحت نیم فوجی فورس کو صوبے میں سول پاور کی مدد کے لیے مخصوص اختیارات اور ذمہ داریاں دی جاتی ہیں۔
اسمبلی کی قرارداد کے مطابق گزشتہ تعیناتی 20 جولائی 2025 سے 19 جولائی 2026 تک تھی۔ تازہ منظوری کے بعد یہی انتظام ایک اور سال جاری رہے گا۔ صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ رینجرز سندھ پولیس کے متبادل کے طور پر نہیں بلکہ معاون فورس کے طور پر کام کرے گی اور اس کی تعیناتی کا مقصد موجودہ سکیورٹی اقدامات کو برقرار رکھتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ صلاحیت کو مضبوط کرنا ہے۔
اسی اجلاس میں سندھ اسمبلی نے امن و امان کے علاوہ بجلی کی لوڈشیڈنگ، انفراسٹرکچر اور دیگر صوبائی معاملات پر بھی بحث کی۔ تاہم رینجرز کی تعیناتی میں توسیع سے متعلق قرارداد کو ایوان میں اتفاق رائے حاصل ہوا، جس سے صوبے کی موجودہ سکیورٹی پالیسی کے تسلسل کا عندیہ ملتا ہے۔




