پشاور: چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پشاور کور ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا، جہاں انہیں خیبر پختونخوا کی موجودہ سکیورٹی صورتحال، جاری انسداد دہشت گردی کارروائیوں، سرحدی انتظام اور صوبے میں تعینات فارمیشنز کی آپریشنل تیاری کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق پشاور پہنچنے پر کور کمانڈر نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کا استقبال کیا۔ بریفنگ میں صوبے میں موجود سکیورٹی چیلنجز اور مختلف علاقوں میں جاری کارروائیوں کا جائزہ لیا گیا۔ فوجی قیادت نے افسران اور جوانوں کے حوصلے اور پیشہ ورانہ کارکردگی کو سراہا اور خطرات سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے نگرانی اور آپریشنل تیاری کے اعلیٰ معیار برقرار رکھنے کی ہدایت کی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے ان تنظیموں کے خلاف مہم پوری قوت سے جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا جنہیں پاکستانی ریاست بھارت کی سرپرستی سے منسلک قرار دیتی ہے۔ بھارت سے متعلق یہ نسبت پاکستانی فوج کا سرکاری مؤقف ہے؛ دستیاب بیان میں اس الزام کے حق میں کوئی نئی آزادانہ شہادت پیش نہیں کی گئی، اس لیے اسے تصدیق شدہ بین الاقوامی نتیجے کے بجائے سرکاری دعوے کے طور پر بیان کرنا ضروری ہے۔

بیان میں عاصم منیر کے حوالے سے کہا گیا کہ سکیورٹی فورسز دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں گی۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہریوں، شہدا اور غازیوں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ عوامی حمایت کے ساتھ دہشت گردی اور اس کے نظریے کو شکست دی جائے گی۔

یہ دورہ ایسے وقت ہوا ہے جب خیبر پختونخوا میں امن و امان اور دہشت گردی کے واقعات وفاقی اور صوبائی سطح پر اہم موضوع بنے ہوئے ہیں۔ ایک روز قبل فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پشاور میں وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت نیشنل ایکشن پلان کی وفاقی ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں بھی شرکت کی تھی، جس میں صوبے کی سکیورٹی اور ترقیاتی صورتحال زیر غور آئی۔

حالیہ دنوں میں صوبے میں پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں پر حملوں کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ کرک میں سرچ آپریشن کے دوران سی ٹی ڈی کے ایک ڈی ایس پی سمیت چار پولیس اہلکار شہید ہوئے تھے۔ پشاور کور ہیڈکوارٹرز کی تازہ بریفنگ میں کسی نئے آپریشن، ہلاکت یا گرفتاری کا مخصوص اعلان نہیں کیا گیا؛ بنیادی پیش رفت اعلیٰ فوجی قیادت کی جانب سے موجودہ سکیورٹی صورتحال اور جاری کارروائیوں کا جائزہ اور آپریشنل تیاری برقرار رکھنے کی ہدایت ہے۔