وفاقی حکومت نے سول سرونٹس سے متعلق نئے قواعد نافذ کیے ہیں جن کے تحت سرکاری ملازمین کو اپنی اور اپنے زیر کفالت اہل خانہ کی غیر ملکی شہریت، مستقل رہائش اور غیر ملکی سفری دستاویزات کے بارے میں معلومات ظاہر کرنا ہوں گی۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری قواعد کا مقصد سرکاری ریکارڈ میں ایسی معلومات کو باقاعدہ اور یکساں طریقے سے درج کرنا ہے۔
نئے ضوابط کے تحت وفاقی سول سرونٹس کو مقررہ طریقہ کار کے مطابق یہ بتانا ہوگا کہ آیا وہ خود یا ان کے زیر کفالت اہل خانہ کسی دوسرے ملک کی شہریت رکھتے ہیں، مستقل رہائش کا حق حاصل کر چکے ہیں یا ان کے پاس کسی غیر ملکی ریاست کی جاری کردہ سفری دستاویز موجود ہے۔ یہ تقاضے ملازمت کے دوران متعلقہ حیثیت میں تبدیلی کی صورت میں بھی لاگو ہوں گے تاکہ ریکارڈ تازہ رکھا جا سکے۔
قواعد میں معلومات جمع کرانے کے لیے باضابطہ اعلامیے اور متعلقہ سرکاری چینل استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس اقدام سے وفاقی اداروں کے پاس اپنے ملازمین کی ایسی قانونی حیثیت کے بارے میں یکساں ڈیٹا دستیاب ہوگا جو بیرون ملک شہریت یا رہائش سے متعلق ہو۔ قواعد کی خلاف ورزی یا مطلوبہ معلومات چھپانے کی صورت میں معاملہ موجودہ سروس قوانین اور تادیبی ضابطوں کے تحت دیکھا جا سکتا ہے۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن وفاقی سول سروس کے انتظامی امور اور سروس پالیسی میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ نئی شرائط اسی انتظامی فریم ورک کا حصہ ہیں اور ان کا اطلاق ان ملازمین پر ہوگا جو متعلقہ وفاقی سروس قواعد کے دائرے میں آتے ہیں۔ مختلف سرکاری اداروں کو بھی اپنے اہلکاروں سے مطلوبہ معلومات حاصل کرکے ریکارڈ مکمل رکھنے کی ضرورت ہوگی۔
غیر ملکی شہریت اور مستقل رہائش کا معاملہ پاکستان میں سرکاری عہدوں اور مفادات کے ٹکراؤ سے متعلق بحث میں وقتاً فوقتاً زیر غور آتا رہا ہے۔ تاہم نئے قواعد کو کسی فرد کے خلاف الزام یا نااہلی کے فیصلے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے؛ ان کا بنیادی اثر معلومات کے لازمی انکشاف اور ریکارڈ کی تکمیل سے متعلق ہے۔ کسی مخصوص ملازم کی قانونی حیثیت یا ملازمت پر اثر کا تعین متعلقہ قانون، سروس رولز اور انفرادی حقائق کی بنیاد پر ہی کیا جائے گا۔

