گوادر میں سکیورٹی حکام نے بتایا ہے کہ فورسز نے ایک تعمیراتی کمپنی کے خالی کیمپ کو نشانہ بنانے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے تین دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ حکام کے مطابق واقعے کے وقت کیمپ میں کوئی شخص موجود نہیں تھا، اس لیے وہاں جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ یہ تفصیلات سرکاری اور سکیورٹی ذرائع کے بیانات پر مبنی ہیں، جبکہ آزادانہ طور پر تمام عملی تفصیلات کی تصدیق فوری طور پر ممکن نہیں تھی۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق حملہ آوروں کے ایک دوسرے گروہ کو ایک ہوٹل کے قریب گھیر لیا گیا تھا اور وہاں کارروائی جاری تھی۔ حکام نے کہا کہ حملہ آوروں نے قریبی سڑک پر کھڑے چند ٹرکوں کو آگ لگا دی۔ ریاستی حکام نے حملہ آوروں کو بلوچستان میں سرگرم دہشت گرد گروہوں سے منسلک قرار دیا، تاہم اس نسبت کو سرکاری دعوے کے طور پر ہی رپورٹ کیا جا رہا ہے۔
گوادر انتظامیہ اور پولیس نے مشترکہ بیان میں کہا کہ بی پی 250 کے علاقے اور گرد و نواح میں امن و امان کی صورتحال فورسز اور متعلقہ اداروں کی بروقت کارروائی کے بعد قابو میں تھی۔ بیان میں شہریوں سے کہا گیا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیرمصدقہ اطلاعات اور مسلح تنظیموں کے دعووں کو مصدقہ حقیقت نہ سمجھیں اور پولیس و سرکاری اداروں کی تصدیق شدہ معلومات پر انحصار کریں۔
حکام نے ان سوشل میڈیا رپورٹس کی بھی تردید کی جن میں سکیورٹی فورسز، انٹیلی جنس اداروں یا ان کے کیمپوں پر مختلف حملوں کے دعوے کیے گئے تھے۔ پولیس نے کہا کہ شہر میں قانون نافذ کرنے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات جاری ہیں۔ واقعے کے بعد علاقے میں سکیورٹی نگرانی بڑھائے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سکیورٹی فورسز کی کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ حملہ ناکام بنانے میں اہلکاروں نے پیشہ ورانہ صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ بلوچستان بالخصوص گوادر میں سکیورٹی واقعات قومی سطح پر اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ یہ ساحلی شہر بندرگاہی اور ترقیاتی منصوبوں کا مرکز ہے۔ تازہ واقعے میں سرکاری موقف کے مطابق بنیادی ہدف ایک تعمیراتی کمپنی کا کیمپ تھا، اور حکام نے زور دیا کہ غیرمصدقہ دعووں اور تصدیق شدہ معلومات میں فرق رکھا جائے۔

