راولپنڈی: پاکستان میں سعودی عرب کے نئے سفیر ڈاکٹر راجح تمی البقمی نے جنرل ہیڈکوارٹرز میں چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی تعلقات، ادارہ جاتی روابط اور مکہ دفاعی معاہدے کے تحت ہونے والی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق دونوں جانب نے سہ فریقی مکہ دفاعی معاہدے کے فریم ورک میں اب تک کی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور دفاعی تعاون، ادارہ جاتی رابطوں اور اسٹریٹجک ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ بیان میں کسی نئی فوجی تعیناتی، آپریشن یا الگ دفاعی معاہدے کا اعلان نہیں کیا گیا۔

ڈاکٹر راجح تمی البقمی نے گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں اپنی سفارتی ذمہ داریاں سنبھالی تھیں۔ ان کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے یہ ملاقات ایسے وقت ہوئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی کشیدگی اور سعودی عرب پر حوثی حملوں کے باعث علاقائی دفاعی تعاون توجہ کا مرکز ہے۔ پاکستانی حکام حالیہ دنوں میں سعودی خودمختاری اور سلامتی کی حمایت کا اعادہ کر چکے ہیں۔

مکہ دفاعی انتظام پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان دفاعی تعاون کے فریم ورک کے طور پر بیان کیا جا رہا ہے۔ پاکستانی فوجی حکام نے اسے دفاعی نوعیت کا بندوبست قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان اجتماعی دفاعی ہم آہنگی بڑھانا ہے۔ اس فریم ورک کے عملی اقدامات کی تمام تفصیلات عوامی طور پر جاری نہیں کی گئیں، اس لیے دستیاب سرکاری بیان سے آگے کسی مخصوص آپریشنل ذمہ داری کا نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔

ملاقات میں پاکستان اور سعودی عرب کے دیرینہ دفاعی تعلقات کا بھی ذکر ہوا۔ دونوں ممالک تربیت، فوجی رابطوں اور دفاعی مشاورت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون رکھتے ہیں۔ تازہ ملاقات میں اسی تعاون کو ادارہ جاتی سطح پر مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔

آئی ایس پی آر کا بیان اس ملاقات کا بنیادی سرکاری ماخذ ہے۔ چونکہ بیان میں پیش رفت کی نوعیت عمومی الفاظ میں بیان کی گئی ہے، اس خبر میں اسے کسی نئے معاہدے یا فوری فوجی اقدام کے طور پر پیش نہیں کیا جا رہا۔ تصدیق شدہ پیش رفت سعودی سفیر اور پاکستانی دفاعی سربراہ کی ملاقات، موجودہ معاہدے پر اطمینان اور مزید تعاون کے عزم تک محدود ہے۔