کراچی: جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی نے سائبرکرائم کے ایک مقدمے میں اینکر اقرار الحسن کو 26 اکتوبر تک آٹھ روزہ عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔ عدالت نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے مزید آٹھ روز کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کردی۔ اقرار الحسن کو ان کے چھ روزہ جسمانی ریمانڈ کی مدت مکمل ہونے پر پیر کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔
جوڈیشل مجسٹریٹ اول گلریز میمن نے اپنے حکم میں قرار دیا کہ تفتیشی ادارے کو جسمانی تحویل کے لیے کافی وقت دیا جا چکا ہے اور مزید جسمانی ریمانڈ کے لیے کوئی ٹھوس وجہ پیش نہیں کی گئی۔ عدالت نے اس بنیاد پر ملزم کو 26 اکتوبر تک عدالتی تحویل میں بھیجنے کا حکم دیا۔ عدالتی حکم کے مطابق اقرار الحسن نے پولیس کی تحویل میں بدسلوکی کی کوئی شکایت بھی نہیں کی۔
این سی سی آئی اے نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 167 کے تحت ریمانڈ رپورٹ عدالت میں پیش کی۔ ایجنسی کا مؤقف تھا کہ تفتیش میں پیش رفت ہوئی ہے لیکن ضبط کیے گئے ڈیجیٹل آلات کی فرانزک رپورٹ اور نادرا سمیت دیگر اداروں سے حاصل ہونے والے ریکارڈ کی روشنی میں بعض اہم پہلوؤں کی مزید چھان بین ضروری ہے۔ عدالت نے اس دلیل کو مزید جسمانی تحویل کے لیے کافی نہیں سمجھا۔
اقرار الحسن کو ایک ہفتہ قبل ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر مبینہ طور پر ریاست مخالف، جھوٹا اور ہتک آمیز مواد پھیلانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ این سی سی آئی اے نے 10 اکتوبر کی ایک ویڈیو اور دیگر سوشل میڈیا مواد کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مواد عوام کو ریاست اور اس کے اداروں کے خلاف اکسانے کے مقصد سے پھیلایا گیا۔ یہ تفتیشی ادارے کے الزامات ہیں اور عدالت میں ابھی ان کا حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
مقدمہ پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کے متعدد حصوں، جن میں جرم کی تشہیر، سائبر دہشت گردی، سائبر اسٹاکنگ اور جھوٹی یا جعلی معلومات سے متعلق دفعات شامل ہیں، کے تحت درج کیا گیا ہے۔ عدالتی ریمانڈ کا حکم سزا یا جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں؛ اس مرحلے پر اقرار الحسن ملزم ہیں اور مقدمے کی تفتیش اور قانونی کارروائی جاری ہے۔
عدالت کے تازہ حکم سے این سی سی آئی اے کی جسمانی تحویل ختم ہوگئی ہے اور ملزم کو جیل بھیج دیا گیا ہے۔ اگلی متعلقہ قانونی کارروائی تک تفتیشی ادارہ دستیاب فرانزک اور دستاویزی شواہد پر کام جاری رکھ سکتا ہے، جبکہ مقدمے میں الزامات کا حتمی تعین عدالت کرے گی۔

