اسلام آباد: جسٹس سید حسن اظہر رضوی نے 19 اکتوبر 2026 کو وفاقی آئینی عدالت پاکستان کے قائم مقام چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق جسٹس عامر فاروق نے وفاقی آئینی عدالت میں منعقدہ تقریب میں ان سے حلف لیا، جس کے بعد جسٹس رضوی نے عدالتی اور انتظامی امور کی انجام دہی کے لیے قائم مقام چیف جسٹس کی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان 19 سے 24 اکتوبر تک آذربائیجان کے سرکاری دورے پر ہیں۔ یہ دورہ ترک دنیا کی آئینی عدالتوں اور آئینی دائرہ اختیار رکھنے والے اداروں کی کانفرنس سے متعلق دعوت کے تحت ہو رہا ہے۔ وفاقی آئینی عدالت کو جولائی 2026 میں اس فورم میں مبصر کا درجہ ملنے کے بعد یہ دعوت دی گئی تھی۔

چیف جسٹس کی عارضی عدم موجودگی کے دوران جسٹس حسن اظہر رضوی قائم مقام سربراہ کے طور پر فرائض انجام دیں گے۔ حلف برداری کی تقریب میں عدالت کے ججوں، قانونی برادری کے عہدیداروں اور عدالتی افسران نے شرکت کی۔ سرکاری بیان میں کہا گیا کہ اس انتظام کا مقصد عدالت کے عدالتی اور انتظامی کام میں تسلسل برقرار رکھنا اور آئینی مقدمات کی سماعت و انتظامی ذمہ داریوں کو بلا تعطل جاری رکھنا ہے۔

یہ تقرری مستقل چیف جسٹس کی تبدیلی نہیں بلکہ موجودہ چیف جسٹس کے محدود مدت کے سرکاری دورے کے دوران عارضی انتظام ہے۔ سرکاری شیڈول کے مطابق جسٹس امین الدین خان کا دورہ 24 اکتوبر تک ہے، اس لیے جسٹس رضوی کی موجودہ ذمہ داری اسی عارضی عدم موجودگی سے منسلک ہے۔

جسٹس حسن اظہر رضوی اس سے پہلے بھی چیف جسٹس کی غیر موجودگی میں قائم مقام سربراہ کی ذمہ داریاں ادا کر چکے ہیں، تاہم 19 اکتوبر کی حلف برداری ایک نئی، مخصوص مدت کے لیے انتظامی و عدالتی ذمہ داری سنبھالنے کا واقعہ ہے۔ اس رپورٹ کی بنیادی معلومات وفاقی حکومت کے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے تازہ سرکاری اعلامیے سے لی گئی ہیں۔