ملتان: بوسن روڈ پر پیر کی علی الصبح ایک کار کے حادثے میں پانچ نوجوان جاں بحق ہوگئے۔ ریسکیو 1122 کے مطابق ٹویوٹا کرولا تیز رفتاری کے دوران سڑک کے ڈیوائیڈر سے ٹکرائی، پھر قریبی پلاٹ کی دیوار سے جا لگی اور گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی۔ تمام پانچ افراد شجاع آباد کے رہائشی تھے اور ریسکیو حکام کے مطابق موقع پر ہی دم توڑ گئے۔
پولیس رپورٹ کے مطابق حادثہ تقریباً صبح چار بجے پیش آیا اور ایک راہ گیر نے 4 بج کر 15 منٹ پر کنٹرول روم کو اطلاع دی۔ اطلاع ملنے کے بعد ریسکیو اور فائر فائٹنگ ٹیمیں جائے حادثہ پر پہنچیں، آگ پر قابو پایا اور گاڑی سے لاشیں نکالیں۔ بعد ازاں میتوں کو قانونی اور طبی کارروائی کے لیے ملتان کے نشتر اسپتال منتقل کیا گیا۔
ریسکیو 1122 نے پانچ میں سے تین افراد کی عمریں 22، 23 اور 28 سال بتائیں، جبکہ دو دیگر افراد کی عمریں اندازاً 24 یا 25 سال تھیں۔ ابتدائی ریسکیو معلومات کے مطابق تمام افراد کو سر پر شدید چوٹیں آئیں۔ دستیاب رپورٹ میں متاثرین کے تمام نام جاری نہیں کیے گئے، اس لیے شناخت سے متعلق غیر مصدقہ معلومات شامل نہیں کی جا رہیں۔
ابتدائی رپورٹ میں رفتار کو حادثے کا ایک اہم عنصر بتایا گیا ہے، تاہم کسی جامع ٹریفک یا فرانزک تفتیش کا حتمی نتیجہ ابھی سامنے نہیں آیا۔ اس لیے گاڑی کی رفتار، مکینیکل خرابی، سڑک کی حالت یا دیگر ممکنہ عوامل کے بارے میں حتمی ذمہ داری متعین کرنا قبل از وقت ہوگا۔
پنجاب میں سڑک حادثات کی بلند تعداد پہلے ہی حکام کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ ریسکیو 1122 کے سابقہ صوبائی اعداد و شمار کے مطابق صرف مئی میں 43,160 روڈ ٹریفک حادثات رپورٹ ہوئے تھے، جن میں 23,013 افراد شدید زخمی اور 434 جاں بحق ہوئے۔ بوسن روڈ کا تازہ واقعہ پانچ خاندانوں کے لیے ایک ہی وقت میں بڑا جانی نقصان ہے اور اس کی مزید تفصیلات پولیس کی قانونی کارروائی کے ساتھ سامنے آنے کی توقع ہے۔

