اسلام آباد: سینیٹ نے 19 اکتوبر 2026 کو پاسپورٹس ایکٹ 1974 میں مزید ترمیم کے لیے پاسپورٹس (ترمیمی) بل 2026 متفقہ طور پر منظور کرلیا۔ ایوان میں بحث کے دوران سرکاری بلیو پاسپورٹس کے اجرا، منتخب نمائندوں کے استحقاق اور اعلیٰ سرکاری افسران کے اہل خانہ کو دستیاب سہولت پر سوالات اٹھائے گئے۔
رپورٹس کے مطابق سینیٹر عبدالقادر نے ترمیمی بل ایوان میں پیش کیا، جس کے بعد ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر نے تحریک پر ووٹنگ کرائی اور اسے متفقہ منظوری مل گئی۔ بحث کے دوران عبدالقادر نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر بعض اعلیٰ سرکاری افسران اور ان کے اہل خانہ کو سرکاری پاسپورٹ کی سہولت حاصل ہے تو سینیٹرز کے لیے بھی قواعد میں یکسانیت ہونی چاہیے، یا پھر غیر ضروری مراعات ختم کی جانی چاہئیں۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان کو بتایا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ارکان کے لیے سرکاری پاسپورٹ سے متعلق موجودہ قواعد میں فرق موجود ہے۔ انہوں نے اس رائے کی حمایت کی کہ گریڈ 21 اور 22 کے ریٹائرڈ سرکاری افسران کے بچوں کو بلیو پاسپورٹ کی سہولت جاری نہیں رہنی چاہیے۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بھی کہا کہ حکومت سابق بیوروکریٹس کے خاندانوں، بالخصوص بچوں، کے لیے اس سہولت کو ختم کرنے کی غرض سے نیا بل لانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
طلال چوہدری کے مطابق بلیو پاسپورٹس کی تعداد کو مناسب حدود میں رکھنا پاکستان کے سرکاری سفری دستاویزات کی بین الاقوامی ساکھ کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے ایوان میں یہ بھی بتایا کہ ہزاروں بلیو پاسپورٹس واپس لیے جا چکے ہیں اور حکومت قواعد کو مزید منظم کرنا چاہتی ہے۔
بل کی منظوری قانون سازی کے پارلیمانی عمل کا ایک مرحلہ ہے۔ کسی ترمیم کے مکمل طور پر نافذ ہونے کے لیے آئینی اور قانونی تقاضوں کے مطابق باقی مراحل بھی پورے ہونا ضروری ہوتے ہیں۔ سابق سرکاری افسران کے بچوں کی سہولت ختم کرنے سے متعلق حکومتی اعلان الگ مجوزہ قانون سازی سے متعلق ہے، اس لیے اسے موجودہ بل کی حتمی نافذ شدہ شق کے طور پر نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

