اسلام آباد: ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پیر کو تہران کا دورہ کریں گے، جہاں ان کی ایرانی حکام سے ملاقاتیں ہوں گی۔ دی نیشن کی 23 اگست کی رپورٹ کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے دورے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے دونوں پڑوسی ملکوں کے درمیان جاری رابطوں کا حصہ قرار دیا۔
ترجمان کے مطابق مجوزہ ملاقاتوں میں پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تعاون، خطے میں امن و سلامتی اور باہمی دلچسپی کے دوسرے امور زیر بحث آئیں گے۔ رپورٹ میں دورے کے مکمل شیڈول، ملاقات کرنے والے تمام عہدیداروں یا کسی معاہدے کی پیشگی تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے فی الحال اتنا ہی تصدیق شدہ ہے کہ دورہ پیر کے لیے بتایا گیا ہے اور گفتگو کا عمومی دائرہ دونوں ملکوں کے تعلقات اور علاقائی صورت حال ہوگا۔
پاکستان اور ایران کے درمیان طویل سرحد، سرحدی تجارت، زائرین کی آمدورفت اور سکیورٹی تعاون کی وجہ سے اعلیٰ سطح کے رابطے مسلسل اہم رہتے ہیں۔ دونوں ملک مختلف مواقع پر سرحدی انتظام، دہشت گردی کے خطرات، اقتصادی تعاون اور علاقائی استحکام کے موضوعات پر بات کرتے رہے ہیں۔ موجودہ دورے کو بھی اسی وسیع سفارتی و سلامتی رابطے کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، تاہم کسی مخصوص فیصلے یا نتیجے کا اعلان ملاقاتوں کے بعد ہی معتبر ہوگا۔
دی نیشن کی رپورٹ میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے پاکستان سے تعلقات کے بارے میں مثبت بیانات کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ ان بیانات سے تہران کی جانب سے روابط بڑھانے کی خواہش ظاہر ہوتی ہے، لیکن یہ دورے سے نکلنے والے کسی طے شدہ معاہدے کے مترادف نہیں۔ سرکاری ملاقاتوں کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے سے ہی معلوم ہوگا کہ کن شعبوں میں عملی پیش رفت، نئی مفاہمت یا آئندہ کے لائحۂ عمل پر اتفاق ہوا۔
یہ خبر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے بیان پر مبنی ہے۔ دورہ ابھی ہونا باقی ہے، اس لیے ملاقاتوں کے شرکا، گفتگو کی حتمی تفصیل اور نتائج کے بارے میں قیاس آرائی سے گریز ضروری ہے۔ اردو ہیڈلائنز کسی بعد کے سرکاری بیان یا مشترکہ اعلامیے کی صورت میں اسی خبر کو مادی معلومات کے ساتھ اپ ڈیٹ کرے گا۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




