پشاور: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پشاور میں پارٹی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے حالیہ قانون سازی، پارلیمان کے کردار، اداروں کی سیاست میں مداخلت اور خیبر پختونخوا و بلوچستان میں امن و امان کی صورت حال پر سخت اعتراضات اٹھائے ہیں۔ ایکسپریس اردو کی 23 اگست کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ کسی ایک فرد کی خاطر فیصلے قبول نہیں کیے جا سکتے اور پارلیمان کے آئینی اختیارات برقرار رہنے چاہییں۔
فضل الرحمان نے دعویٰ کیا کہ حالیہ قانون سازی سے بعض اختیارات پارلیمان سے باہر منتقل ہوئے اور حزب اختلاف کی جماعتوں نے اس کا باریک بینی سے جائزہ نہیں لیا۔ انہوں نے 26ویں آئینی ترمیم اور اسلامی نظریاتی کونسل سے متعلق عمل درآمد کا بھی ذکر کیا۔ یہ ان کا سیاسی مؤقف اور تشریح ہے؛ رپورٹ میں کسی عدالت یا آئینی ادارے کی طرف سے اس قانون سازی کو غیر آئینی قرار دینے کا فیصلہ بیان نہیں کیا گیا۔
جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ فوج کو سیاست میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے، جبکہ پاکستان کی مضبوط دفاعی قوت کی حمایت ان کی جماعت کے مؤقف کا حصہ ہے۔ انہوں نے سپہ سالار سے منصب کے تقاضوں اور رویوں کے بارے میں رہنمائی لینے کی اپیل کی۔ ان بیانات کو مقرر کی سیاسی تنقید کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، کسی ادارے کی جانب سے تسلیم شدہ حقیقت یا باضابطہ جواب کے طور پر نہیں۔
خطاب میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بدامنی اور پولیس کے کمانڈ ڈھانچے کے بارے میں بھی دعوے کیے گئے۔ فضل الرحمان نے بنوں اور لکی مروت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری احکامات پر عمل درآمد کمزور ہوا ہے۔ ایکسپریس کی اسی رپورٹ میں ان دعوؤں پر صوبائی حکومت، پولیس یا متعلقہ اداروں کا ردعمل شامل نہیں، اس لیے اردو ہیڈلائنز انہیں منسوب سیاسی الزامات کے طور پر واضح کر رہا ہے۔
فضل الرحمان نے صوبوں کی ممکنہ نئی تقسیم، فاٹا انضمام، این ایف سی ایوارڈ اور معدنی وسائل پر قبائلی حقوق کے معاملات بھی اٹھائے۔ خطاب سے کوئی نئی جماعتی قرارداد، مشترکہ اپوزیشن کا حتمی لائحۂ عمل یا احتجاجی تاریخ سامنے نہیں آئی۔ اس خبر کی قابلِ تصدیق بنیاد پشاور کنونشن میں دیے گئے ان کے بیانات اور ان کے بیان کردہ سیاسی نکات ہیں؛ آئندہ حکومتی یا ادارہ جاتی ردعمل الگ پیش رفت ہوگا۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




