اسلام آباد: شام کے وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی نے 19 سال بعد پاکستان کا دورہ مکمل کیا ہے جس میں دونوں ملکوں نے سیاسی، اقتصادی اور سیکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔ ایکسپریس اردو نے 23 اگست کو شامی عرب خبر رساں ادارے سانا کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ دمشق اس دورے کو پاکستان اور شام کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز قرار دے رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق شامی وزیر خارجہ ایک اعلیٰ سطح کے وفد کے ساتھ اسلام آباد آئے اور وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں دو طرفہ سیاسی رابطوں کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری اور سیکیورٹی تعاون کے موضوعات زیر بحث آئے۔ دورے کا بنیادی قابلِ تصدیق نتیجہ یہی ہے کہ دونوں حکومتوں نے رابطہ بڑھانے اور مختلف شعبوں میں عملی تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا۔
ایکسپریس کی رپورٹ میں کہا گیا کہ عوامی اور تجارتی روابط بہتر بنانے کے لیے پاکستان اور شام کے درمیان براہ راست پروازوں کی بحالی پر بھی بات ہوئی۔ دمشق یا اسلام آباد میں سرمایہ کاری فورم منعقد کرنے کی تجویز کا ذکر کیا گیا، تاہم کسی فورم کی حتمی تاریخ یا براہ راست پروازوں کے باقاعدہ آغاز کا اعلان سامنے نہیں آیا۔ اس لیے ان نکات کو زیر غور تجاویز سمجھا جا رہا ہے، نافذ شدہ فیصلے نہیں۔
پاکستانی جانب سے شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت دہرائی گئی اور مقبوضہ جولان کے معاملے پر شام کے مؤقف کا حوالہ دیا گیا۔ رپورٹ میں ادلب کے ابو الظہور ہوائی اڈے پر اسرائیلی حملوں کے بارے میں پاکستانی مذمت کا بھی ذکر ہے۔ یہ سفارتی مؤقف ہیں؛ اس رپورٹ میں کسی نئے دفاعی معاہدے، فوجی تعیناتی یا مخصوص تجارتی حجم کی تصدیق نہیں کی گئی۔
سانا کی رپورٹ کے مطابق شامی فریق نے علاقائی استحکام کے لیے ریاض، انقرہ اور اسلام آباد کے ساتھ رابطوں کو اہم قرار دیا۔ دورے کے بعد اصل پیش رفت کا اندازہ براہ راست پروازوں، سرمایہ کاری فورم یا کسی تحریری تعاون کے عملی اعلان سے ہوگا۔ فی الحال خبر کا مرکز 19 سال کے وقفے کے بعد ہونے والا اعلیٰ سطحی سفارتی دورہ اور تعاون بڑھانے پر ہونے والی بات چیت ہے۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




