کراچی: گورنر ہاؤس کراچی میں منعقد ہونے والی سیرت کانفرنس میں مذہبی علما اور اسکالرز نے نوجوانوں کو سیرتِ طیبہ کی عملی تعلیم، برداشت اور باہمی احترام کے ساتھ جوڑنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ایکسپریس اردو کی 23 اگست کی رپورٹ کے مطابق کانفرنس میں مفتی محمد تقی عثمانی، علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی اور دیگر مذہبی شخصیات نے شرکت کی۔

مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ سیرتِ طیبہ کو محض ایک فکری یا تاریخی مضمون کے طور پر پڑھنا کافی نہیں بلکہ اس کی عملی جہت کو تعلیم اور روزمرہ زندگی کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق جامعات اور تعلیمی اداروں میں مختلف مضامین کے ساتھ سیرت کے پہلو اجاگر کیے جائیں تاکہ نوجوانوں کی فکری اور عملی تربیت میں اس سے رہنمائی لی جا سکے۔

انہوں نے گھرانوں میں مشترکہ مطالعے کی روایت قائم کرنے کی تجویز بھی دی اور کہا کہ والدین اور بڑے اپنے عمل کے ذریعے نوجوانوں کے لیے مثال بنیں۔ سوشل میڈیا پر اختلاف کے دوران گالم گلوچ اور سخت زبان کے استعمال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے سنت کی روشنی میں شائستگی اور خود احتسابی پر زور دیا۔ یہ کانفرنس میں دیا گیا مذہبی و سماجی پیغام ہے، کسی نئے سرکاری نصاب یا لازمی تعلیمی پالیسی کا اعلان نہیں۔

علامہ شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ نوجوانوں کو برداشت، ایک دوسرے کو قبول کرنے اور غلط فہمیوں کو مکالمے کے ذریعے کم کرنے کا پیغام دینا چاہیے۔ قاری عثمان نے سیرتِ طیبہ پر عمل کو موجودہ دور کی ضرورت قرار دیا، جبکہ پیر سید اظہر شاہ ہمدانی نے نوجوانوں کی بڑی آبادی کا حوالہ دیتے ہوئے والدین اور معاشرے سے کہا کہ انہیں اخلاقی و دینی تعلیم کے ساتھ جوڑا جائے۔

ایکسپریس کی رپورٹ میں کانفرنس کے شرکا کی گفتگو تفصیل سے دی گئی ہے، لیکن کسی قرارداد، سرکاری نوٹیفکیشن، نصاب میں تبدیلی یا عمل درآمد کی تاریخ کا ذکر نہیں۔ اس لیے خبر کا دائرہ تقریب کے انعقاد اور مقررین کے بیان کردہ تعلیمی، اخلاقی اور سماجی نکات تک محدود ہے۔ آئندہ اگر گورنر ہاؤس، حکومت یا تعلیمی ادارے کسی عملی پروگرام کا اعلان کرتے ہیں تو وہ الگ قابلِ رپورٹ پیش رفت ہوگی۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک