اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے فیڈرل جوڈیشل کمپلیکس سے متعلق حملہ کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو اگلی سماعت پر عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے مقدمے کی کارروائی کے دوران متعلقہ حکام کو سابق وزیر اعظم کی آئندہ پیشی یقینی بنانے کا حکم دیا۔ یہ عدالتی ہدایت مقدمے کے جاری ٹرائل کا حصہ ہے اور اس سے عمران خان کے خلاف عائد الزامات کے درست یا غلط ہونے کا حتمی تعین نہیں ہوتا۔

عدالت نے سابق وفاقی وزرا فرخ حبیب، حماد اظہر اور مراد سعید کے علاوہ سابق سینیٹر شبلی فراز کو مسلسل عدم پیشی کے بعد اشتہاری قرار دیا۔ رپورٹ کے مطابق جج نے متعلقہ حکام سے ان افراد کے اثاثوں کی تفصیلات بھی طلب کیں۔ عدالت نے سابق ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی واثق قیوم اور پی ٹی آئی رکن حسن خان نیازی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے۔ ان تمام افراد کے خلاف قانونی کارروائی مختلف مراحل میں ہے اور عدالتی احکامات کو کسی الزام کے ثابت ہونے کے مترادف نہیں سمجھا جا سکتا۔

فیڈرل جوڈیشل کمپلیکس سے متعلق مقدمہ اسلام آباد میں پیش آنے والے ان واقعات سے جڑا ہے جن کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف مقدمات قائم کیے گئے تھے۔ موجودہ سماعت میں عدالت کی توجہ ملزمان کی حاضری، اشتہاری قرار دیے گئے افراد سے متعلق قانونی تقاضوں اور آئندہ کارروائی کے انتظامی پہلوؤں پر رہی۔ عدالت کی جانب سے اثاثوں کی تفصیلات طلب کرنا اور وارنٹ جاری کرنا ضابطہ فوجداری کے تحت مقدمے کو آگے بڑھانے کے اقدامات ہیں۔

عمران خان اس وقت قید میں ہیں، اس لیے عدالت میں ان کی پیشی کے لیے جیل اور سکیورٹی حکام کے انتظامات درکار ہوں گے۔ عدالتی حکم پر عمل درآمد اور اگلی سماعت میں ہونے والی پیش رفت سے یہ واضح ہوگا کہ مقدمے میں شہادتوں اور دیگر قانونی نکات پر کارروائی کس رفتار سے آگے بڑھتی ہے۔ مقدمے میں نامزد افراد کو قانون کے تحت دفاع اور عدالتی فیصلوں کے خلاف دستیاب قانونی راستے اختیار کرنے کا حق حاصل ہے۔