ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی ایک کارروائی کے دوران تین دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا، جس کی اطلاع پیر 5 اکتوبر 2026 کو سرکاری میڈیا کے حوالے سے سامنے آئی۔ واقعے کی دستیاب رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کارروائی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں کی گئی اور سکیورٹی فورسز نے مطلوبہ مقام پر موجود دہشت گرد عناصر کے خلاف آپریشن کیا۔
صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے الگ الگ بیانات میں کارروائی پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ صدر نے کہا کہ دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر کارروائیاں ان کی صلاحیت کمزور کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ وزیراعظم نے بھی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے ریاستی عزم کا اعادہ کیا۔
خیبر پختونخوا، خصوصاً جنوبی اضلاع، حالیہ عرصے میں دہشت گردی اور سکیورٹی کے بڑھتے ہوئے چیلنجز کا سامنا کرتے رہے ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں اس سے پہلے بھی متعدد انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں رپورٹ ہو چکی ہیں، جبکہ پولیس اور سکیورٹی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے واقعات نے مقامی آبادی کے لیے خطرات میں اضافہ کیا ہے۔ تازہ کارروائی کو اسی سلسلے میں ایک مخصوص انسدادِ دہشت گردی آپریشن کے طور پر رپورٹ کیا گیا ہے۔
دستیاب خبر میں ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت، ان کے تنظیمی عہدوں یا کارروائی کے دوران برآمد ہونے والے اسلحے کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں، اس لیے ان نکات کے بارے میں کوئی اضافی دعویٰ نہیں کیا جا رہا۔ اسی طرح کسی آزاد ذریعے سے آپریشن کی زمینی تفصیلات کی مکمل تصدیق بھی سامنے نہیں آئی؛ تاہم واقعے کی بنیادی اطلاع سرکاری میڈیا کے حوالے سے معتبر قومی اخبار نے شائع کی ہے۔
حکام کا مؤقف ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔ خطے میں جاری سکیورٹی صورتحال کے باعث ڈیرہ اسماعیل خان اور ملحقہ علاقوں میں انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں ریاستی سکیورٹی پالیسی کا اہم حصہ بنی ہوئی ہیں۔
