اسلام آباد: پاکستان کسٹمز کے کلکٹریٹ آف کسٹمز انفورسمنٹ اسلام آباد نے M-2 موٹروے کے قریب انٹیلی جنس پر مبنی کارروائی میں 1200 کلوگرام چرس پکڑنے کا اعلان کیا ہے۔ سرکاری پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق آپریشن 2 اکتوبر 2026 کی رات تقریباً ڈھائی بجے اینٹی اسمگلنگ اسکواڈ نے ایک خفیہ اطلاع پر کیا۔
کسٹمز حکام کے مطابق کارروائی کے دوران 1200 کلو چرس کے علاوہ تقریباً 100 کلو پوست کے بیج، ایک آتشیں اسلحہ اور 2005 ماڈل کی نان کسٹم پیڈ ٹویوٹا پراڈو بھی قبضے میں لی گئی۔ سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ گاڑی مبینہ طور پر ممنوعہ سامان کی نقل و حمل کے لیے استعمال ہو رہی تھی۔
حکام کے مطابق موقع پر موجود افراد نے کسٹمز ٹیم کی موجودگی محسوس کرتے ہی اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیابی حاصل کی۔ اس لیے فوری طور پر کسی شخص کی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی گئی۔ ضبط شدہ گاڑی، منشیات اور دیگر اشیا کو کسٹمز کی تحویل میں لے لیا گیا ہے۔
سرکاری تخمینے کے مطابق پکڑی گئی منشیات کی بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمت تقریباً 5.40 ارب روپے ہے، جبکہ گاڑی اور دوسری ضبط شدہ اشیا سمیت مجموعی مالیت تقریباً 5.41 ارب روپے بتائی گئی ہے۔ یہ مالیت کسٹمز کی سرکاری تشخیص ہے اور اس رقم کو کسی عدالتی فیصلے یا حتمی ضبطی کے مالی نتیجے کے طور پر نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
کسٹمز نے نامعلوم ملزمان کے خلاف کنٹرول آف نارکوٹک سبسٹنسز ایکٹ 1997 اور کسٹمز ایکٹ 1969 کی متعلقہ دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کی تصدیق کی ہے۔ مزید تفتیش کا مقصد مبینہ اسمگلنگ نیٹ ورک، منشیات کی اصل منزل اور نقل و حمل میں شریک افراد کی شناخت کرنا ہے۔
یہ کارروائی ایک ابتدائی فوجداری اور کسٹمز تفتیش کا حصہ ہے۔ ابھی کسی مخصوص ملزم پر جرم ثابت نہیں ہوا، کیونکہ سرکاری بیان کے مطابق نامعلوم افراد کی تلاش جاری ہے۔ آئندہ گرفتاری، چالان، استغاثہ اور عدالتی کارروائی سے ہی یہ طے ہو گا کہ برآمد شدہ سامان کی ملکیت اور مبینہ اسمگلنگ میں کن افراد کا کردار تھا۔
پاکستان کسٹمز نے کہا ہے کہ وہ سرحدوں اور اندرون ملک راستوں پر منشیات اور غیر قانونی اشیا کی اسمگلنگ کے خلاف انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائیاں جاری رکھے گا۔ M-2 کے قریب اس کارروائی کو ادارے نے ایک بڑی ضبطی قرار دیا ہے، تاہم مکمل نیٹ ورک کے بارے میں نتیجہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آ سکے گا۔
