اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کاروباری اصلاحات، پیداواری صلاحیت اور عالمی مسابقت کو پاکستان کی پائیدار معاشی ترقی کے لیے بنیادی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک دوبارہ محض کھپت اور درآمدات کے سہارے عارضی نمو کے پرانے چکر کی طرف نہیں جا سکتا۔ ہفتہ 24 اکتوبر کو اپنے خطاب میں انہوں نے نجی شعبے پر زور دیا کہ وہ سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، برآمدات اور productivity میں اضافہ کرے۔
جیو نیوز کے مطابق وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت ٹیرف اصلاحات سمیت ایسے اقدامات جاری رکھے گی جن کا مقصد مقامی صنعت کو عالمی منڈی میں مقابلے کے قابل بنانا ہے۔ ان کے مطابق بلند حفاظتی دیواروں پر مستقل انحصار کے بجائے کاروباروں کو لاگت، معیار اور پیداوار میں بہتری لانا ہوگی۔ حکومت ضابطہ جاتی رکاوٹیں کم کرنے اور سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے کو بھی معاشی حکمت عملی کا حصہ قرار دے رہی ہے۔
اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان نے میکرو اکنامک استحکام کی سمت پیش رفت کی ہے، لیکن اگلا چیلنج اس استحکام کو دیرپا اور جامع ترقی میں تبدیل کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسی تیز نمو جو درآمدات میں اچانک اضافے، کرنٹ اکاؤنٹ دباؤ اور زرمبادلہ کی کمی پر منتج ہو، دیرپا حل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ برآمدی آمدن، سرمایہ کاری اور مقامی پیداواری بنیاد مضبوط کیے بغیر بلند شرح نمو کو برقرار رکھنا مشکل ہوگا۔
وزیر خزانہ کے مطابق موجودہ آئی ایم ایف پروگرام اکتوبر 2027 میں مکمل ہونا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اپریل 2025 کے بعد پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ تین مرتبہ بہتر ہوئی ہے۔ یہ پیش رفت بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور ریٹنگ ایجنسیوں کے الگ الگ فیصلوں سے جڑی ہے، تاہم مستقبل کی ریٹنگ معاشی کارکردگی، مالیاتی نظم اور بیرونی حالات پر منحصر رہے گی۔
انہوں نے رواں مالی سال میں ترسیلات زر تقریباً 44 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع بھی ظاہر کی۔ یہ حکومتی تخمینہ ہے، حتمی رقم مالی سال مکمل ہونے کے بعد سامنے آنے والے سرکاری اعداد سے طے ہوگی۔ وزیر خزانہ نے مشرق وسطیٰ کی کشیدگی سے عالمی توانائی اور ضروری اشیا کی قیمتوں پر ممکنہ اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بیرونی جھٹکے پاکستان کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
حکومت کا معاشی ایجنڈا ٹیکس نظام، سرکاری اداروں، توانائی، تجارت اور کاروباری قواعد میں اصلاحات پر مشتمل ہے۔ اورنگزیب کے تازہ بیان میں اسی پالیسی سمت کو دہراتے ہوئے نجی شعبے کو زیادہ فعال کردار ادا کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کو عالمی منڈی میں اپنی جگہ مضبوط کرنے کے لیے کم لاگت، بہتر معیار، ٹیکنالوجی کے استعمال اور برآمدی صلاحیت میں مسلسل اضافہ کرنا ہوگا۔
