لاہور: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ملک میں فوری ایندھن بحران کے خدشات کم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بڑھتے علاقائی تنازعات کے باوجود پاکستان کی خام تیل اور دیگر توانائی سپلائی فی الحال تسلی بخش ہے۔ تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ ملکی گیس اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اضافی اقدامات کی ضرورت ہوگی، خصوصاً موسم سرما کے دوران طلب بڑھنے کے تناظر میں۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق لاہور کی ایک نجی یونیورسٹی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان اب تک توانائی کی ایسی قلت سے بچا ہوا ہے جس کے نتیجے میں پٹرول پمپس پر قطاریں یا امن و امان کے مسائل پیدا ہوں۔ ان کے مطابق نومبر تک توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے انتظامات موجود ہیں جبکہ موسم سرما کے لیے تیاری جاری ہے۔

وزیر خزانہ کا بیان سینیٹ میں ایک روز قبل ہونے والی بحث کے بعد سامنے آیا، جہاں پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے سوال اٹھایا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں تنازع پھیلنے کی صورت میں دسمبر تک پٹرول کی دستیابی کیسے یقینی بنائی جائے گی۔ انہوں نے حکومت سے ہنگامی منصوبہ بندی اور ممکنہ راشننگ سمیت مختلف صورت حال پر پارلیمان کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے پاکستان کی درآمدی ایل پی جی پر نمایاں انحصار کی طرف بھی توجہ دلائی۔

وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے سینیٹ میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ فی الحال ایندھن کی سپلائی کا مسئلہ نہیں اور ہدفی سبسڈی کے ذریعے لاکھوں افراد کو ریلیف دیا جا رہا ہے۔ اورنگزیب نے بھی عمومی سبسڈی کے بجائے ہدفی امداد کی پالیسی کا دفاع کیا اور کہا کہ موٹر سائیکل، تین پہیوں والی گاڑیوں اور 800 سی سی سے کم انجن والی گاڑیوں کے صارفین اس پروگرام سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

اورنگزیب نے اپنی تقریر میں ملکی زرمبادلہ ذخائر، آئی ٹی برآمدات اور بین الاقوامی مالی منڈیوں تک رسائی میں بہتری کے دعوے بھی کیے۔ توانائی کے محاذ پر اصل امتحان آنے والے ہفتوں میں ہوگا، کیونکہ حکومت کو عالمی اور علاقائی رسد کے خطرات کے ساتھ گیس اور ایل این جی کی موسمی طلب بھی سنبھالنا ہوگی۔ وزیر خزانہ نے موجودہ انتظامات کو نومبر تک کافی قرار دیا ہے، لیکن دسمبر اور موسم سرما کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت کو خود تسلیم کیا ہے۔