گوادر: پاکستان نے ایران کے ساتھ گبد رمدان سرحدی گزرگاہ کو ایک ہفتے کی معطلی کے بعد دوبارہ تجارتی آمدورفت کے لیے کھول دیا ہے۔ یہ کراسنگ بلوچستان کے ضلع گوادر کو ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان سے ملاتی ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان ایل پی جی، خوراک اور دیگر تجارتی سامان کی نقل و حمل کے اہم راستوں میں شمار ہوتی ہے۔

دستیاب معلومات کے مطابق تجارتی سرگرمیاں ہفتے کی صبح بحال ہوئیں اور حکام نے ان کمرشل کھیپوں کو گزرنے کی اجازت دی جن کے کنسائنمنٹ نوٹ 16 اکتوبر یا اس سے پہلے کے تھے۔ گبد رمدان پوائنٹ کو گیٹ 250 بھی کہا جاتا ہے۔ گوادر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر میر نوید جان کلمتی نے تجارت کی بحالی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ درآمدی اور برآمدی سامان لے جانے والی گاڑیوں کو دونوں سمتوں میں حرکت کی اجازت دی گئی ہے۔

پاکستان کی وزارت تجارت نے 17 اکتوبر کو گبد رمدان اور تفتان کے راستوں سے تجارت سے متعلق ایک سابقہ حکم واپس لے لیا تھا، جس کے نتیجے میں مال بردار گاڑیاں سرحد کے قریب رک گئی تھیں۔ اس تعطل کے دوران ایل پی جی اور دیگر اشیا کی رسد متاثر ہونے کے خدشات بڑھے۔ سرحد کے قریب کھڑی گاڑیوں پر مسلح حملے اور متعدد ٹرک جلائے جانے کے واقعے نے سکیورٹی کی صورتحال کو بھی نمایاں کیا تھا۔

مقامی انتظامیہ کی جانب سے سکیورٹی صورتحال کے جائزے اور تجارتی قافلوں کے تحفظ کے لیے اضافی اقدامات کے بعد گزرگاہ کھولی گئی۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے سرحد کے دونوں جانب پھنسے ٹرانسپورٹرز اور کاروباری افراد کو فوری ریلیف ملے گا۔ ایل پی جی کی رسد معمول پر آنے سے ملک کے بعض حصوں میں قلت اور قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کی توقع بھی ظاہر کی جا رہی ہے، تاہم اس اثر کا انحصار مال بردار ٹریفک کے مسلسل اور محفوظ بہاؤ پر ہوگا۔

ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے اسی روز الگ وضاحت میں کہا کہ ایران کی جانب سے پاکستان کو ایل پی جی سمیت ایرانی مصنوعات کی برآمد پر پابندی نہیں اور ایران کی سرحدیں ہمسایہ ممالک کے لیے کھلی ہیں۔ ان کے بیان سے یہ فرق واضح ہوتا ہے کہ حالیہ تجارتی رکاوٹ پاکستان کی جانب سے انتظامی اور دستاویزی اقدامات سے متعلق تھی، نہ کہ ایران کی جانب سے عمومی سرحدی بندش۔