اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ریٹیلرز ٹیکس اسکیم پر پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے دکانداروں اور چھوٹے کاروباروں کے لیے ٹیکس نظام میں رجسٹریشن اور تعمیل کا طریقہ آسان بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ڈان کی 10 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق جمعے کو وزارت خزانہ میں ہونے والے اجلاس میں یہ معاملات ایسے وقت زیر غور آئے جب حکومتی توقعات کے مقابلے میں تاجروں کی جانب سے اسکیم میں شرکت کم رہی ہے۔
اجلاس میں وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین راشد محمود لنگڑیال بھی شریک ہوئے۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق اجلاس کا مقصد ریٹیلرز کی رجسٹریشن بڑھانے، ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کے عمل کا جائزہ لینے اور اسکیم پر عمل درآمد میں درپیش عملی رکاوٹوں کو سمجھنا تھا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ اسکیم کا مقصد دکانداروں کے لیے باضابطہ ٹیکس نظام میں شامل ہونے کا نسبتاً سادہ راستہ فراہم کرنا ہے۔ اس کے ذریعے کاروباری افراد کو اپنے قانونی ٹیکس فرائض ادا کرنے میں سہولت ملنی چاہیے۔ حکومتی مؤقف میں ٹیکس کی بنیاد وسیع کرنا بھی شامل ہے تاکہ صرف پہلے سے رجسٹرڈ کاروباروں پر انحصار کے بجائے غیر رجسٹرڈ معاشی سرگرمیوں کو باقاعدہ نظام میں لایا جا سکے۔
اجلاس کے دوران موجودہ ٹیکس دہندگان کی شرکت، رجسٹریشن کی رفتار اور قابل اطلاق ادائیگیوں کی شرائط کا جائزہ لیا گیا۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے دستیاب اعدادوشمار اور شناختی ریکارڈ کی مدد سے غیر رجسٹرڈ ریٹیلرز کی نشاندہی اور کاروباروں کی درست شناخت کے لیے ڈیٹا کی جانچ کی ضرورت پر بریفنگ دی۔ حکام نے کہا کہ رجسٹریشن کے ریکارڈ میں کاروباروں کی حقیقی تفصیلات کی درست عکاسی ہونی چاہیے۔
محمد اورنگزیب نے ٹیکس دہندگان کو سہولت دینے اور ہدفی، دستاویزی اقدامات کے درمیان توازن قائم رکھنے پر زور دیا۔ ان کے مطابق ریٹیلرز ٹیکس اسکیم کو صرف 2026 کے لیے مختصر مدت کی کوشش نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ آنے والے برسوں میں چھوٹے کاروباروں کو رسمی ٹیکس نظام میں شامل رکھنے کا ذریعہ بنانا چاہیے۔
سرکاری بریفنگ میں رجسٹریشن کی حتمی تعداد، مطلوبہ ہدف سے فرق یا اسکیم سے حاصل ہونے والی مجموعی رقم کی ایسی تفصیل سامنے نہیں آئی جس سے اس خبر میں نئی مقداری کامیابی ثابت کی جا سکے۔ اس لیے اس وقت بنیادی پیش رفت وزیر خزانہ کی زیر صدارت جائزہ اجلاس اور رجسٹریشن و عمل درآمد کو بہتر بنانے کی ہدایات ہیں۔ اسکیم کے مستقبل کے نتائج کا اندازہ مصدقہ ٹیکس ریکارڈ اور تاجروں کی حقیقی شرکت سے ہی ممکن ہوگا۔

