کراچی: بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانیوں کی جانب سے وطن بھیجی جانے والی رقوم میں مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی کے دوران سالانہ بنیاد پر 14 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ڈان کی 10 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے جولائی سے ستمبر تک ترسیلات زر 10 ارب 90 کروڑ ڈالر ریکارڈ کیں، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 9 ارب 50 کروڑ ڈالر موصول ہوئے تھے۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق صرف ستمبر 2026 کے دوران ترسیلات 3 ارب 60 کروڑ ڈالر رہیں۔ یہ رقم گزشتہ برس ستمبر کے مقابلے میں 12.7 فیصد زیادہ، لیکن اگست 2026 کے مقابلے میں 1.9 فیصد کم تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مجموعی سہ ماہی رجحان مثبت رہا، تاہم ماہ بہ ماہ اعدادوشمار میں معمولی کمی بھی سامنے آئی۔

ملک وار اعدادوشمار میں سعودی عرب سب سے بڑا ذریعہ رہا، جہاں سے پہلی سہ ماہی کے دوران 2 ارب 68 کروڑ 60 لاکھ ڈالر موصول ہوئے۔ یہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 16.2 فیصد اضافہ تھا۔ متحدہ عرب امارات سے ترسیلات 2 ارب 23 کروڑ ڈالر رہیں اور ان میں 12.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

برطانیہ سے آنے والی رقوم 19.4 فیصد اضافے سے ایک ارب 64 کروڑ 30 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئیں۔ بڑی منڈیوں میں یہ سب سے زیادہ شرح نمو تھی۔ یورپی یونین کے ممالک سے 1 ارب 40 کروڑ ڈالر آئے، جن میں 9.8 فیصد اضافہ ہوا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے علاوہ خلیجی تعاون کونسل کے دیگر ممالک سے مجموعی طور پر ایک ارب ڈالر موصول ہوئے اور یہ اضافہ 11.7 فیصد رہا۔

ستمبر میں انفرادی ملکوں سے ترسیلات کی تفصیل بھی جاری کی گئی۔ سعودی عرب سے 89 کروڑ 90 لاکھ ڈالر، متحدہ عرب امارات سے 74 کروڑ 85 لاکھ ڈالر، برطانیہ سے 51 کروڑ 51 لاکھ ڈالر اور امریکا سے 30 کروڑ 59 لاکھ ڈالر موصول ہوئے۔ ان اعدادوشمار کی بنیاد اسٹیٹ بینک کی جاری کردہ رپورٹ ہے۔

بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات پاکستان کے زرمبادلہ کے بہاؤ میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ رواں مالی سال کے لیے حکومت نے 44 ارب ڈالر کی ترسیلات کا ہدف رکھا ہے۔ پہلی سہ ماہی کی شرح نمو اس ہدف کے حوالے سے مثبت اشارہ ہے، تاہم پورے سال کا نتیجہ ابھی سامنے نہیں آیا۔ درآمدات اور برآمدات کے توازن سمیت معیشت کے دیگر عوامل بھی بیرونی کھاتوں پر اثرانداز ہوتے ہیں، اس لیے صرف ترسیلات میں اضافے کو تمام اقتصادی مسائل کے حل کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔