بھارت کے مرکزی بینک نے روپے کی قدر پر بڑھتے دباؤ کے بعد زرمبادلہ کی منڈی میں طلب کا بوجھ کم کرنے کے لیے نئی تدابیر کا اعلان کیا ہے۔ روئٹرز کی 10 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق ریزرو بینک آف انڈیا نے تین سرکاری تیل فروخت کرنے والی کمپنیوں کی روزانہ ڈالر کی ضروریات کے لیے خصوصی سہولت کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ یہ کمپنیاں معمول کی اسپاٹ مارکیٹ سے تمام ڈالر خریدنے کے بجائے مرکزی بینک کے مخصوص انتظام کے تحت ضرورت پوری کر سکیں۔
اس سہولت سے انڈین آئل کارپوریشن، ہندوستان پیٹرولیم اور بھارت پیٹرولیم فائدہ اٹھا سکیں گی۔ مرکزی بینک کے مطابق ان کمپنیوں کو پیر سے متعلقہ انتظام کے تحت ڈالر تک رسائی ملے گی۔ روئٹرز نے بتایا کہ کرنسی پر غیر معمولی دباؤ کے ادوار میں مرکزی بینک زرمبادلہ کے ذخائر سے براہِ راست ڈالر فراہم کرنے کا ایسا طریقہ استعمال کر سکتا ہے۔ تاہم مارکیٹ کی طلب کم ہونے کا فائدہ ذخائر میں ممکنہ کمی کی قیمت پر بھی مل سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بھارتی روپیہ جمعہ کو ایک ڈالر کے مقابلے میں 96.73 پر بند ہوا، جو مئی میں درج 96.96 کی ریکارڈ کمزور ترین سطح کے قریب تھا۔ مرکزی بینک پہلے بھی ڈالر حاصل کرنے اور بنیادی شرحِ سود بڑھانے جیسے اقدامات کر چکا تھا، لیکن کرنسی پر دباؤ مکمل طور پر کم نہیں ہوا تھا۔ اسی پس منظر میں تازہ فیصلہ سامنے آیا ہے۔
ریزرو بینک نے کرنسی سے متعلق مشتق مالی معاہدوں یا ڈیریویٹوز کے حوالے سے بھی ضابطے سخت کیے۔ روئٹرز کے مطابق ایکسچینج میں ہونے والی روپے سے متعلق کرنسی ڈیریویٹوز پوزیشن کی حد 10 کروڑ ڈالر سے کم کرکے 50 لاکھ ڈالر کردی گئی۔ بینک نے فاریکس ڈیلروں سے یہ بھی کہا کہ روپے کے متعلقہ ڈیریویٹوز معاہدوں کی فرضی یا طے شدہ مالیت کے 20 فیصد کے برابر زرمبادلہ خطرہ ریزرو برقرار رکھا جائے۔ بعض معاہدوں کی دوبارہ بکنگ پر بھی پابندی بتائی گئی۔
ممبئی میں اے این زیڈ بینک کے کرنسی حکمت عملی کے ماہر دھیرج نم کے مطابق تیل کمپنیوں کی ڈالر کی ضرورت کو عام منڈی سے ہٹانے سے اتار چڑھاؤ محدود کرنے میں مدد مل سکتی ہے، تاہم اس کا اثر مرکزی ذخائر پر پڑے گا۔ یہ ایک تجزیہ کار کا اندازہ ہے، روپے کے آئندہ نرخ کی ضمانت نہیں۔ نئے اقدامات کے حقیقی نتائج آنے والے کاروباری دنوں میں روپے کی تجارت، ڈالر کی طلب اور سرکاری ذخائر کے اعداد و شمار سے واضح ہوں گے۔
