میلبورن: آسٹریلیا کی رکن پارلیمان ہیلن ہینز کی دونوں ٹانگیں ایک گاڑی کی ٹکر سے شدید زخمی ہونے کے بعد کاٹ دی گئی ہیں۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق ان کے شوہر نے بتایا کہ ہینز کی حالت اب مستحکم ہے اور وہ میلبورن کے ایک اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ پولیس نے واقعے کو بظاہر ہدف بنا کر کیے گئے حملے کے طور پر بیان کیا ہے، تاہم واقعے کے محرکات اور ممکنہ فوجداری ذمہ داری کا حتمی تعین تفتیش اور عدالتی عمل سے ہوگا۔
ہیلن ہینز کو پیر کے روز ریاست وکٹوریہ کے شہر وانگاراتا میں ان کے دفتر کے قریب گاڑی نے ٹکر ماری تھی۔ وانگاراتا میلبورن سے دو سو کلومیٹر سے زیادہ شمال مشرق میں واقع ہے۔ حادثے یا حملے کے بعد انہیں تشویشناک حالت میں طبی امداد کے لیے منتقل کیا گیا، جہاں شدید زخموں کے باعث ڈاکٹروں کو دونوں ٹانگیں کاٹنے کا فیصلہ کرنا پڑا۔
ان کے شوہر نے بدھ کے روز جاری معلومات میں ہینز کو ایک مضبوط مزاج شخص قرار دیتے ہوئے بتایا کہ وہ سنگین جسمانی نقصان کے باوجود علاج کا سامنا کر رہی ہیں۔ خاندان کی جانب سے سامنے آنے والی معلومات کے مطابق ان کی حالت میں استحکام آیا ہے، تاہم بحالی کا عمل طویل اور پیچیدہ ہونے کا امکان ہے۔
پولیس کی جانب سے واقعے کو targeted attack قرار دیے جانے کی وجہ سے یہ معاملہ معمول کے ٹریفک حادثے سے الگ فوجداری تفتیش کے دائرے میں ہے۔ تاہم اس مرحلے پر کسی مشتبہ شخص کے خلاف جرم ثابت نہیں ہوا۔ حملے کی منصوبہ بندی، محرک اور رکن پارلیمان کو نشانہ بنانے کی ممکنہ وجہ کے بارے میں جو بھی دعوے سامنے آئیں گے انہیں تفتیشی نتائج اور عدالت میں پیش کیے جانے والے شواہد کی روشنی میں جانچا جائے گا۔
ایک منتخب عوامی نمائندے پر مبینہ طور پر دانستہ حملے نے آسٹریلیا میں سیاسی شخصیات کی سلامتی سے متعلق تشویش بھی بڑھائی ہے۔ ایسے واقعات میں پولیس عام طور پر جائے وقوعہ کے شواہد، گاڑی کی نقل و حرکت، گواہوں کے بیانات اور ممکنہ ڈیجیٹل مواد کا جائزہ لیتی ہے، مگر اس مخصوص مقدمے میں ان تفصیلات کی تصدیق شدہ مکمل تصویر ابھی سامنے نہیں آئی۔
فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت یہ ہے کہ ہیلن ہینز شدید زخمی ہونے کے بعد اسپتال میں زیر علاج ہیں، ان کی دونوں ٹانگیں کاٹی جا چکی ہیں اور ان کی حالت مستحکم بتائی گئی ہے۔ پولیس واقعے کی نوعیت کو ہدف بنا کر کیے گئے حملے کے طور پر بیان کر رہی ہے۔ مزید قانونی یا فوجداری نتائج تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوں گے۔
