انگلش فٹبال کلب مانچسٹر سٹی نے فرانس کے کلب لِل سے مراکش کے نوجوان مڈفیلڈر ایوب بوعادی کو پانچ سالہ معاہدے پر سائن کرلیا ہے۔ ایکسپریس اردو کے مطابق لِل نے منتقلی کی فیس 10 کروڑ یورو، یعنی تقریباً 8 کروڑ 56 لاکھ پاؤنڈ بتائی۔ رپورٹ نے اس معاہدے کو پریمیئر لیگ کی تاریخ میں کسی نوعمر کھلاڑی کی سب سے مہنگی منتقلی قرار دیا ہے۔
ایوب بوعادی کی عمر 18 سال ہے۔ رپورٹ کے مطابق انہوں نے اس ریکارڈ میں فرانسیسی دفاعی کھلاڑی لینا یورو کو پیچھے چھوڑا، جو 2024 میں لِل سے مانچسٹر یونائیٹڈ گئے تھے۔ یورو کی منتقلی پر 5 کروڑ 89 لاکھ پاؤنڈ خرچ ہونے کی اطلاع دی گئی تھی۔ دونوں معاہدوں کی رقم الگ ادوار اور مختلف شرائط سے متعلق ہے، اس لیے یہاں صرف رپورٹ کردہ بنیادی فیس کا تقابل کیا گیا ہے۔
بوعادی نے 16 سال کی عمر میں لِل کی پہلی ٹیم میں جگہ بنائی اور کلب کے لیے 96 میچ کھیلے۔ اتنی کم عمر میں سینئر سطح پر مسلسل کھیلنے کا تجربہ ان کی منتقلی کی قدر میں اہم سمجھا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں گول، اسسٹ یا معاہدے کے ممکنہ بونس کی مکمل تفصیل نہیں، اس لیے کھلاڑی کی کارکردگی یا کل مالی لاگت کے اضافی اعداد اخذ نہیں کیے گئے۔
مراکشی مڈفیلڈر حالیہ ورلڈ کپ میں اپنی قومی ٹیم کے نمایاں کھلاڑیوں میں شامل تھے۔ مراکش نے کوارٹر فائنل تک رسائی حاصل کی، جہاں اسے فرانس کے خلاف شکست ہوئی۔ کسی بڑے بین الاقوامی ٹورنامنٹ میں نمایاں کارکردگی کے بعد یورپی کلبوں کی دلچسپی بڑھنا معمول ہے، مگر موجودہ رپورٹ صرف مانچسٹر سٹی کے مکمل کیے گئے پانچ سالہ معاہدے کی تصدیق کرتی ہے۔
مانچسٹر سٹی کے لیے یہ معاہدہ مستقبل کی مڈفیلڈ منصوبہ بندی میں طویل مدتی سرمایہ کاری ہے۔ نوجوان کھلاڑی کو پریمیئر لیگ کی رفتار، جسمانی تقاضوں اور کلب کے مقابلہ جاتی ماحول سے ہم آہنگ ہونے میں وقت لگ سکتا ہے۔ منتقلی کی بڑی رقم فوری کامیابی کی ضمانت نہیں، بلکہ کلب کی جانب سے صلاحیت اور ترقی کے امکان پر اعتماد ظاہر کرتی ہے۔
آئندہ قابل تصدیق مرحلے میں بوعادی کی رجسٹریشن، اسکواڈ میں شمولیت، شرٹ نمبر اور ممکنہ ڈیبیو کی تفصیل سامنے آئے گی۔ فی الحال مصدقہ معلومات پانچ سالہ معاہدہ، لِل کی بتائی ہوئی 10 کروڑ یورو فیس، کھلاڑی کی 18 سال عمر اور لِل کے لیے 96 مقابلوں تک محدود ہیں۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




